المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الْقَدْرِ باب: تقدیر کا بیان۔
حدیث نمبر: 2950
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي بَعْدِي خَمْسًا : تَكْذِيبًا بِالْقَدَرِ ، وَتَصْدِيقًا بِالنُّجُومِ .ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھے اپنے بعد اپنی امت کے بارے میں پانچ چیزوں کا اندیشہ ہے: تقدیر کو جھٹلانا اور ستاروں (کی تاثیر) کی تصدیق کرنا۔“
اس حدیث کی تخریج امام ابویعلیٰ الموصلی نے اپنی مسند (2950) میں کی ہے، تاہم اس کی سند میں یزید بن ابان الرقاشی نامی راوی موجود ہے جو کہ جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے، اس لیے یہ روایت سندی اعتبار سے کمزور ہے۔