المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الْقَدْرِ باب: تقدیر کا بیان۔
حدیث نمبر: 2951
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا هَارُونُ أَبُو الْعَلَاءِ ، عَنْ رَبِيعَةَ ، رَفَعَهُ : هَلَاكُ أُمَّتِي فِي ثَلَاثٍ : الْقَدَرِيَّةِ ، وَالْعَصَبِيَّةِ ، وَالرِّوَايَةِ مِنْ غَيْرِ ثَبْتٍ .ترجمہ
ربیعہ رحمہ اللہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میری امت کی ہلاکت و بربادی تین چیزوں میں ہے: تقدیر کا انکار کرنا (یعنی عقیدہ قدر کی مخالفت)، جاہلانہ عصبیت (یعنی ناحق طرفداری اور گروہ بندی)، اور بغیر کسی تحقیق، تثبت اور ٹھوس ثبوت کے کوئی بات یا روایت بیان کرنا۔“
اس روایت کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، تاہم اس کی سند میں انقطاع پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ روایت فنی اعتبار سے ضعیف ہے۔