المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الْقَدْرِ باب: تقدیر کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَمْزَةُ النَّصِيبِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَصْحَابِهِ ، وَهُمْ يَتَذَاكَرُونَ الْقَدَرَ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبِهَذَا أُمِرْتُمْ ؟ قَدْ أَخَذْتُمْ فِي وَادِيَيْنِ لَنْ تَبْلُغُوا آخِرَهُمَا ، وَبِهِمَا هَلَكَتِ الْقُرُونُ قَبْلَكُمْ ، إِيَّاكُمْ وَإِيَّاكُمْ .عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس تشریف لائے جبکہ وہ آپس میں تقدیر کے متعلق بحث و تکرار کر رہے تھے، تو آپ ﷺ نے (سخت ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے) ارشاد فرمایا: ”کیا تمہیں اسی کام کا حکم دیا گیا ہے؟ تم تو ایسی دو وادیوں میں پڑ گئے ہو جن کی انتہا تک تم کبھی نہیں پہنچ سکو گے، اور تم سے پہلے کی امتیں بھی انہی بحثوں کی وجہ سے ہلاک ہوئیں، خبردار! اس سے بچو، خبردار! اس سے بچو۔“
امام حارث نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں حمزہ بن زیاد نصیبی متروک اور حسن بن قتیبہ الخزاعی ضعیف ہے، جس کی بنا پر یہ روایت سنداً سخت ضعیف ہے۔