المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الْقَدْرِ باب: تقدیر کا بیان۔
حدیث نمبر: 2946
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ الْكُوفِيُّ ، عَنْ كُلَيْبِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ كَذَّبَ بِالْقَدَرِ ، أَوْ خَاصَمَ فِيهِ ، فَقَدْ جَحَدَ بِمَا جِئْتُ بِهِ ، وَكَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے تقدیرِ الٰہی کی تکذیب کی یا اس کے معاملے میں بحث و تکرار کی، تو بلاشبہ اس نے اس ہدایت و شریعت کا انکار کیا جسے میں لے کر مبعوث ہوا ہوں، اور وہ اس وحی کے ساتھ کفر کا مرتکب ہوا جو محمد ﷺ پر نازل کی گئی ہے۔“
اس حدیث کی تخریج امام ابو یعلیٰ نے کی ہے (حدیث: 2946)۔ اس کی سند میں سوار بن مصعب نامی راوی متروک الحدیث ہے، لہٰذا علمی و فنی اعتبار سے یہ روایت سخت ضعیف ہے۔