المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الْقَدْرِ باب: تقدیر کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : كَانَ بَدْءُ هَلَاكِ الْأُمَمِ مِنْ قِبَلِ الْقَدَرِ ، وَإِنَّكُمْ تُبْتَلَوْنَ ، أَوْ سَتُبْتَلَوْنَ أَيُّهَا الْأُمَّةُ بِهِمْ ، فَإِنْ لَقِيتُمُوهُمْ ، أَوْ أَدْرَكْتُمُوهُمْ ، فَسَلُوهُمْ ، أَوْ تَكُونُوا أَنْتُمُ السَّائِلِينَ ، وَلَا تُمَكِّنُوهُمْ مِنَ الْمَسْأَلَةِ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”گزشتہ امتوں کی ہلاکت و بربادی کا آغاز تقدیر کے معاملے میں (کج بحثی یا انکار) کی وجہ سے ہوا تھا، اور اے میری امت! تمہیں بھی ان (تقدیر کا انکار کرنے والوں) کے ذریعے آزمایا جائے گا، یا عنقریب تم ان کے ذریعے آزمائش میں ڈالے جاؤ گے۔ پس اگر تمہاری ان سے ملاقات ہو جائے، یا تم ان کا زمانہ پا لو، تو تم ہی ان سے (ان کے باطل نظریات کے متعلق) سوال کرو، یعنی تم ہی ان سے باز پرس کرنے والے بنو، اور انہیں اس بات کا موقع نہ دو کہ وہ تم سے (اپنے شکوک و شبہات پر مبنی) سوالات کر سکیں کہ کہیں تم فتنے میں نہ پڑ جاؤ۔“
اس حدیث کی سند میں ایک راوی مبہم (عن رجل) ہے جس کی وجہ سے فنی اعتبار سے یہ سند ضعیف ہے، تاہم فتنہِ تقدیر کے حوالے سے دیگر مستند روایات میں بھی اسی نوعیت کا انتباہ موجود ہے۔