المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الْقَدْرِ باب: تقدیر کا بیان۔
حدیث نمبر: 2944
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ تَكَلَّمَ فِي الْقَدَرِ بِشَيْءٍ سُئِلَ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے تقدیر کے مسئلے میں (بحث و مباحثہ کی نیت سے) ذرہ برابر بھی کوئی گفتگو کی، تو قیامت کے دن اس سے اس کے متعلق بازپرس کی جائے گی۔“
اس روایت کی سند میں داود بن المحبر موجود ہے، جو محدثین کے نزدیک سخت ضعیف اور ناقابلِ اعتبار راوی ہے، اس لیے علمی طور پر یہ روایت سنداً انتہائی کمزور یا موضوع کے درجے میں آتی ہے۔