المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الْقَدْرِ باب: تقدیر کا بیان۔
( 114 ) تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُهُ فِي التَّحْذِيرِ مِنَ الْبِدَعِ
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ : سَمِعْتُ يُونُسَ ، يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُنَيْدَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أَرَادَ اللهُ أَنْ يَخْلُقَ نَسَمَةً ، قَالَ مَلَكُ الْأَرْحَامِ مُعْرِضًا : أَيْ رَبِّ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى ؟ قَالَ : فَيَقْضِي اللهُ تَعَالَى أَمْرَهُ ، ثُمَّ يَقُولُ : أَيْ رَبِّ أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ ؟ فَيَقْضِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَمْرَهُ ، ثُمَّ يَكْتُبُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَا هُوَ لَاقٍ ، حَتَّى النَّكْبَةَ يُنْكَبُهَا .
2943 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَمَّا خُلِقَتِ النُّطْفَةُ فِي الرَّحِمِ ، قَالَ مَلَكُ الْأَرْحَامِ : أَيْ رَبِّ ، مَا أَكْتُبُ ؟ فَيَقْضِي اللهُ تَعَالَى أَمْرَهُ ، فَيَقُولُ : أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى ؟ فَيَقْضِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَمْرَهُ الْحَدِيثَ .
قَالَ الْبَزَّارُ : تَفَرَّدَ بِهِ صَالِحٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، يَعْنِي عَنْ سَالِمٍ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی جان کو پیدا کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو رحمِ مادر پر مامور فرشتہ عرض گزار ہوتا ہے: «أَيْ رَبِّ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى؟» ”اے میرے رب! کیا یہ لڑکا ہے یا لڑکی؟“ تو اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ فرما دیتا ہے، پھر وہ فرشتہ دوبارہ عرض کرتا ہے: «أَيْ رَبِّ أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ؟» ”اے میرے رب! کیا یہ بدبخت ہے یا خوش بخت؟“ تو اللہ عزوجل اپنا حکم صادر فرما دیتا ہے، پھر وہ فرشتہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان وہ سب کچھ لکھ دیتا ہے جو اسے زندگی بھر پیش آنا ہے، یہاں تک کہ اس معمولی تکلیف یا مصیبت کو بھی جو اسے پہنچے گی۔“
اسے امام ابویعلیٰ نے روایت کیا ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ہی (ایک اور سند سے) مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب رحم میں نطفہ ٹھہر جاتا ہے تو رحم پر متعین فرشتہ عرض کرتا ہے: «أَيْ رَبِّ، مَا أَكْتُبُ؟» ”اے میرے رب! میں کیا لکھوں؟“ تو اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ صادر فرماتا ہے، پھر وہ فرشتہ پوچھتا ہے کہ کیا یہ لڑکا ہے یا لڑکی؟ تو اللہ عزوجل اپنا حکم صادر فرما دیتا ہے...“ (راوی نے مکمل حدیث اسی طرح ذکر کی)۔
اسے امام بزار نے روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ صالح نامی راوی زہری سے، یعنی سالم کے واسطے سے، اسے بیان کرنے میں منفرد ہیں۔