المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الاعتبار بالخاتمة باب: خاتمہ کے معتبر ہونے اور اعمال کا دارومدار زندگی کے آخری انجام پر ہونے کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَيُونُسَ ، وَحُمَيْدٍ ، فِي آخَرِينَ ، عَنِ الْحَسَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَعْجَلُوا بِأَحَدٍ مِنْكُمْ ، حَتَّى تَنْظُرُوا مَاذَا يُخْتَمُ بِهِ عَمَلُهُ ؟ وَكَانَ الْحَسَنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : اللَّهُمَّ اجْعَلْ أَحْسَنَ أَعْمَالِنَا خَوَاتِمَهَا ، وَاجْعَلْ ثَوَابَهَا الْجَنَّةَ قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ اجْعَلْ خَيْرَ أَعْمَالِنَا مَا يَلِي آجَالَنَا ، وَاجْعَلْ خَيْرَ أَيَّامِنَا يَوْمَ لِقَاكَ .امام حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے لیے یہ ضروری ہے کہ تم میں سے کوئی کسی دوسرے کے بارے میں (حتمی فیصلہ کرنے میں) جلدی نہ کرے، یہاں تک کہ تم یہ دیکھ لو کہ اس کے عمل کا انجام کس بات پر ہوتا ہے؟“ اور امام حسن رحمہ اللہ یہ دعا کیا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ أَحْسَنَ أَعْمَالِنَا خَوَاتِمَهَا ، وَاجْعَلْ ثَوَابَهَا الْجَنَّةَ» ”اے اللہ! ہمارے سب سے بہترین اعمال ہمارے آخری اعمال کو بنا دے، اور ان کا اجر و ثواب جنت کو قرار دے۔“ انہوں نے مزید بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ یوں دعا فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ خَيْرَ أَعْمَالِنَا مَا يَلِي آجَالَنَا ، وَاجْعَلْ خَيْرَ أَيَّامِنَا يَوْمَ لِقَاكَ» ”اے اللہ! ہمارے بہترین اعمال ان کو بنا دے جو ہماری زندگی کے خاتمے کے قریب ہوں، اور ہمارے تمام دنوں میں سے بہترین دن وہ ہو جس دن تیری ملاقات نصیب ہو۔“
اس حدیث کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند (بغیۃ الباحث: 2942) میں روایت کیا ہے۔