المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ البيان بأن العمل مِنْ الإيمان باب: اس صراحت و وضاحت کا بیان کہ عمل ایمان ہی کا حصہ ہے۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، وَالْمُلَائِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ عَنِ الْإِيمَانِ ، فَقَرَأَ : لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللهِ إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى : أُولَئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ فَقَالَ الرَّجُلُ : لَيْسَ عَنِ الْبِرِّ سَأَلْتُكَ ، قَالَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ الَّذِي سَأَلْتَنِي عَنْهُ ، فَقَرَأَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا قَرَأْتُ عَلَيْكَ ، فَقَالَ لَهُ الَّذِي قُلْتَ لِي ، فَلَمَّا أَبَى أَنْ يَرْضَى ، قَالَ لَهُ : ادْنُ ، فَدَنَا ، قَالَ : إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا عَمِلَ الْحَسَنَةَ سَرَّتْهُ ، وَرَجَا ثَوَابَهَا ، وَإِذَا عَمِلَ سَيِّئَةً سَاءَتْهُ ، وَخَافَ عِقَابَهَا .
هَذَا مُنْقَطِعٌ ، وَلَهُ طَرِيقٌ أَصَحُّ مِنْهُ فِي التَّفْسِيرِ .قاسم سے مروی ہے کہ ایک شخص سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے ایمان کی حقیقت کے متعلق سوال کیا، تو انہوں نے قرآنِ کریم کی یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 177] ”نیکی صرف یہی نہیں ہے کہ تم اپنے چہرے مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو، بلکہ اصل نیکی تو اس شخص کی ہے جو اللہ پر ایمان لائے“ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان تک: ﴿أُولَئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ﴾ [سورة البقرة: 177] ”یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے سچ کر دکھایا اور یہی تقویٰ والے ہیں“۔ اس شخص نے عرض کیا: ”میں نے آپ سے نیکی کے بارے میں نہیں پوچھا تھا (بلکہ میرا سوال ایمان کے متعلق تھا)“، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے جواباً فرمایا: ”ایک شخص نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تھا اور اس نے آپ ﷺ سے بعینہ وہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے، تو نبی کریم ﷺ نے اس کے سامنے یہی آیت تلاوت فرمائی تھی جو میں نے تمہارے سامنے تلاوت کی ہے، اور اس شخص نے بھی آپ ﷺ کو وہی جواب دیا تھا جو تم نے مجھے دیا ہے، جب اس نے محض اس جواب پر مطمئن ہونے سے انکار کیا تو آپ ﷺ نے اسے فرمایا: ”میرے قریب آؤ“، جب وہ قریب ہوا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک مؤمن وہ ہے کہ جب وہ کوئی نیک عمل کرے تو اسے خوشی حاصل ہو اور وہ اس کے ثواب کی امید رکھے، اور جب اس سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو اسے رنج و افسوس ہو اور وہ اس کی سزا سے ڈرے“۔
یہ روایت منقطع ہے، اور کتبِ تفسیر میں اس کی ایک ایسی سند بھی موجود ہے جو اس سے زیادہ صحیح ہے۔