المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ البيان بأن أصل الأشياء الإباحة باب: اس امر کی وضاحت کا بیان کہ تمام اشیاء میں اصل (بنیادی قاعدہ) ان کا مباح ہونا ہے۔
حدیث نمبر: 2935
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا دَخَلْتَ عَلَى أَخِيكَ الْمُسْلِمِ فَكُلْ مِنْ طَعَامِهِ وَلَا تَسْأَلْ ، وَاشْرَبْ مِنْ شَرَابِهِ وَلَا تَسْأَلْ .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب تم اپنے کسی مسلمان بھائی کے ہاں (مہمان بن کر) جاؤ تو اس کا کھانا کھا لیا کرو اور (اس کے حلال ہونے یا اس کے ماخذ سے متعلق) سوال نہ کیا کرو، اور اس کا مشروب پی لیا کرو اور (اس کے بارے میں بھی) سوال نہ کیا کرو۔“
اس حدیث کو امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں مسلم بن خالد زنجی موجود ہیں جو کہ صدوق ہیں مگر ان کے حافظے پر محدثین نے کلام کیا ہے، تاہم دیگر شواہد کی بنا پر حسنِ ظن اور آدابِ ضیافت کے باب میں یہ روایت اہمیت کی حامل ہے۔