❮
❯
حدیث نمبر: 2935
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا دَخَلْتَ عَلَى أَخِيكَ الْمُسْلِمِ فَكُلْ مِنْ طَعَامِهِ وَلَا تَسْأَلْ ، وَاشْرَبْ مِنْ شَرَابِهِ وَلَا تَسْأَلْ .
ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب تم اپنے کسی مسلمان بھائی کے ہاں (مہمان بن کر) جاؤ تو اس کا کھانا کھا لیا کرو اور (اس کے حلال ہونے یا اس کے ماخذ سے متعلق) سوال نہ کیا کرو، اور اس کا مشروب پی لیا کرو اور (اس کے بارے میں بھی) سوال نہ کیا کرو۔“
اس حدیث کو امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں مسلم بن خالد زنجی موجود ہیں جو کہ صدوق ہیں مگر ان کے حافظے پر محدثین نے کلام کیا ہے، تاہم دیگر شواہد کی بنا پر حسنِ ظن اور آدابِ ضیافت کے باب میں یہ روایت اہمیت کی حامل ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الإيمان والتوحيد / حدیث: 2935
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«أخرجه المستدرك للحاكم برقم: 7254، وأخرجه سنن الدارقطني برقم: 4675، وأخرجه مسند أحمد برقم: 9307، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 6358، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 17023، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 24692، وأخرجه شرح معاني الآثار للطحاوي برقم: 6483، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 2440»