المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ كثرة أهل الإسلام باب: اہلِ اسلام کی کثرت کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ جَابِرٍ الضَّبِّيُّ ، عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ عَتَّابِ بْنِ شُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لِي أَبًا شَيْخًا كَبِيرًا ، وَإِخْوَةً ، فَأَذْهَبُ إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ أَنْ يُسْلِمُوا ، فَآتِيَكَ بِهِمْ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنْ هُمْ أَسْلَمُوا ، فَهُوَ خَيْرٌ لَهُمْ ، وَإِنْ أَبَوْا ، فَالْإِسْلَامُ وَاسِعٌ عَرِيضٌ .سیدنا عتاب بن شمیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے والد نہایت بوڑھے ہیں اور میرے کچھ بھائی بھی ہیں، تو کیا میں ان کے پاس چلا جاؤں؟ اس امید پر کہ شاید وہ اسلام قبول کر لیں اور میں انہیں آپ کی خدمت میں لے آؤں۔“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر وہ اسلام لے آئیں تو یہ ان کے لیے سراسر خیر و بھلائی ہے، اور اگر وہ انکار کر دیں تو (پریشان نہ ہوں کیونکہ) اسلام کا دامن نہایت وسیع و عریض ہے۔“
اس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ نے 'المصنف' میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں مجمع بن عتاب کا اپنے والد سے سماع ثابت ہونے میں اختلاف ہے، تاہم بقیہ رجال ثقہ ہیں۔