المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ تفسير الكبائر باب: کبیرہ گناہوں کی تشریح کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، عَنْ أَبِي هَارُونَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ إِلَيْهِ النَّاسُ رُؤُوسَهُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کوئی زنا کرنے والا جب زنا کی بدکاری میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ اس وقت (کامل) مومن نہیں ہوتا، اور نہ ہی کوئی چور جس وقت چوری کی واردات کرتا ہے تو وہ اس وقت (کامل) مومن ہوتا ہے، اور نہ ہی کوئی لٹیرا ایسی کسی گراں قدر اور بڑی چیز کی سرِ عام لوٹ مار کرتا ہے کہ لوگ (حیرت و حسرت سے) اس کی طرف اپنی نظریں اٹھا کر دیکھ رہے ہوں، تو وہ اس لوٹ مار کے وقت (کامل) مومن رہتا ہے۔“
یہ حدیث اپنی اصل کے اعتبار سے صحیح ہے اور اس کے شواہد صحیح بخاری (2475) اور صحیح مسلم (57) میں موجود ہیں، جس سے مراد یہ ہے کہ ان کبیرہ گناہوں کے ارتکاب کے وقت بندہ ایمان کے اعلیٰ درجے یا نورِ ایمان سے محروم ہو جاتا ہے، اگرچہ وہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔