المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ مِنْ يؤمن بالغيب باب: غیب پر ایمان لانے والوں کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرُوا أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا سَبَقَ لَهُمْ مِنَ الْفَضْلِ ، قَالَ : إِنَّ أَمْرَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بَيِّنًا لِمَنْ رَآهُ ، وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ ، مَا مِنْ أَحَدٍ أَفْضَلُ مِنْ إِيمَانٍ بِغَيْبٍ ، ثُمَّ قَرَأَ : الم ذَلِكَ الْكِتَابُ لا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ إِلَى الْمُفْلِحُونَ .عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا، وہاں لوگوں نے نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام اور ان کے اس فضل و کمال کا تذکرہ کیا جو انہیں ایمان میں سبقت کی وجہ سے حاصل ہے، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بے شک حضرت محمد ﷺ کی نبوت کا معاملہ ان لوگوں کے لیے تو بالکل عیاں اور روزِ روشن کی طرح واضح تھا جنہوں نے آپ ﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، لیکن اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں! کسی بھی انسان کا ایمان اس ایمان سے بڑھ کر فضیلت والا نہیں ہے جو غیب «ایمان بالغیب» یعنی بن دیکھے ایمان لانے پر مبنی ہو“، پھر انہوں نے دلیل کے طور پر یہ آیات تلاوت فرمائیں: ﴿الم * ذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ * الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ * وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ * أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾ [سورة البقرة: 1-5]۔
امام احمد بن منیع نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے، نیز یہ روایت ایمان بالغیب کی اہمیت اور فضیلت پر واضح دلیل ہے۔