المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ مِنْ يؤمن بالغيب باب: غیب پر ایمان لانے والوں کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : أَتَدْرُونَ أَيُّ أَهْلِ الْإِيمَانِ أَفْضَلُ إِيمَانًا ؟ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، الْمَلَائِكَةُ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هُمْ كَذَلِكَ ، وَحُقَّ ذَلِكَ لَهُمْ ، وَمَا يَمْنَعُهُمْ ، وَقَدْ أَنْزَلَهُمُ اللهُ تَعَالَى الْمَنْزِلَةَ الَّتِي أَنْزَلَهُمْ ، بَلْ غَيْرُهُمْ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللهِ الْأَنْبِيَاءُ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هُمْ كَذَلِكَ ، وَحُقَّ لَهُمْ ذَلِكَ ، بَلْ غَيْرُهُمْ ، قُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ ، مَنْ هُمْ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَوْمٌ يَأْتُونَ مِنْ بَعْدِي هُمْ فِي أَصْلَابِ الرِّجَالِ ، فَيُؤْمِنُونَ بِي ، وَلَمْ يَرَوْنِي ، وَيَجِدُونَ الْوَرَقَ الْمُعَلَّقَ ، فَيَعْمَلُونَ بِمَا فِيهِ ، فَهَؤُلَاءِ أَفْضَلُ أَهْلِ الْإِيمَانِ إِيمَانًا .
مُحَمَّدٌ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ ، سَيِّئُ الْحِفْظِ .
2922 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا ، فَقَالَ : أَنْبِئُونِي بِأَفْضَلِ أَهْلِ الْإِيمَانِ إِيمَانًا ؟ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ الْمَلَائِكَةُ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هُمْ كَذَلِكَ ، وَيَحِقُّ لَهُمْ ذَلِكَ ، وَمَا يَمْنَعُهُمْ ، وَقَدْ أَنْزَلَهُمُ اللهُ تَعَالَى الْمَنْزِلَةَ الَّتِي أَنْزَلَهُمْ بِهَا ، بَلْ غَيْرُهُمْ ، قَالُوا : الْأَنْبِيَاءُ الَّذِينَ أَكْرَمَهُمُ اللهُ تَعَالَى بِرِسَالَتِهِ وَالنُّبُوَّةِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هُمْ كَذَلِكَ ، وَيَحِقُّ لَهُمْ ذَلِكَ ، وَمَا يَمْنَعُهُمْ وَقَدْ أَنْزَلَهُمُ اللهُ تَعَالَى الْمَنْزِلَةَ الَّتِي أَنْزَلَهُمْ بِهَا قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، الشُّهَدَاءُ الَّذِينَ اسْتُشْهِدُوا مَعَ الْأَنْبِيَاءِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هُمْ كَذَلِكَ ، وَيَحِقُّ لَهُمْ ذَلِكَ وَمَا يَمْنَعُهُمْ وَقَدْ أَكْرَمَهُمُ اللهُ تَعَالَى بِالشَّهَادَةِ مَعَ الْأَنْبِيَاءِ ، بَلْ غَيْرُهُمْ ، قَالُوا : فَمَنْ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ : أَقْوَامٌ فِي أَصْلَابِ الرِّجَالِ ....فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
2922 \ 3 - حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، بِهِ .سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ اہل ایمان میں ایمان کے اعتبار سے سب سے برتر کون ہے؟“ صحابہ کرام نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! فرشتے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تو ایسے ہیں ہی اور ان کے لیے یہ حق بجانب بھی ہے، اور انہیں (کامل ایمان سے) کیا چیز مانع ہو سکتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس بلند مقام و مرتبے پر فائز فرمایا ہے جس پر وہ فائز ہیں، بلکہ ان کے علاوہ کوئی اور ہیں۔“ ہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! انبیاء کرام۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تو ایسے ہیں ہی اور ان کے لیے یہ حق ہے، بلکہ ان کے علاوہ کوئی اور ہیں۔“ ہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ایسے لوگ ہیں جو میرے بعد آئیں گے، وہ ابھی مردوں کی پشتوں میں ہیں، وہ مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہوگا، وہ (لکھے ہوئے) لٹکے ہوئے اوراق پائیں گے اور جو کچھ ان میں درج ہوگا اس پر عمل کریں گے، پس یہی لوگ اہل ایمان میں ایمان کے لحاظ سے سب سے افضل ہیں۔“ دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے بتلاؤ کہ ایمان لانے والوں میں ایمان کے لحاظ سے سب سے برتر کون ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: ”فرشتے۔“ آپ ﷺ نے وہی جواب ارشاد فرمایا۔ پھر انہوں نے عرض کیا: ”وہ انبیاء جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت اور نبوت سے سرفراز فرمایا۔“ آپ ﷺ نے وہی جواب دیا، پھر صحابہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! وہ شہداء جنہوں نے انبیاء کے ہمراہ جامِ شہادت نوش کیا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تو ایسے ہیں ہی اور ان کے لیے یہ حق ہے، انہیں اس سے کیا چیز روک سکتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں انبیاء کے ساتھ شہادت کی فضیلت سے نوازا ہے، بلکہ ان کے علاوہ کوئی اور ہیں۔“ پھر آپ ﷺ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو ابھی باپ دادا کی پشتوں میں ہیں الخ۔
اس کی سند میں موجود راوی محمد بن ابی حمید ضعیف الحدیث ہے اور اس کا حافظہ درست نہیں۔ اس روایت کو اسحاق، ابو یعلیٰ اور ابو موسیٰ محمد نے مختلف اسناد سے لیکن محمد بن ابی حمید ہی کے واسطے سے بیان کیا ہے۔