المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الدين يسر باب: دین کے آسان ہونے کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ أَيْضًا : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ ( ح ) .
2913 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا وَهْبٌ هُوَ ابْنُ بَقِيَّةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ حُسَيْنٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ : إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ ، إِنَّ اللهَ فَرَضَ فَرَائِضَ ، وَسَنَّ سُنَنًا وَحَدَّ حُدُودًا ، وَأَحَلَّ حَلَالًا وَحَرَّمَ حَرَامًا ، وَشَرَعَ الْإِسْلَامَ فَجَعَلَهُ سَهْلًا فَسِيحًا وَاسِعًا وَلَمْ يَجْعَلْهُ ضَيِّقًا ، أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ ، وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ ، وَمَنْ نَكَثَ ذِمَّةَ اللهِ تَعَالَى طَلَبَهُ ، وَمَنْ نَكَثَ ذِمَّتِي خَاصَمْتُهُ ، وَمَنْ خَاصَمْتُهُ فَلَجْتُ عَلَيْهِ بِالْحُجَّةِ ، وَمَنْ نَكَثَ ذِمَّتِي لَمْ تَنَلْهُ شَفَاعَتِي ، وَلَمْ يَرِدْ عَلَيَّ الْحَوْضَ أَلَا وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُرَخِّصْ فِي الْقَتْلِ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ : مُرْتَدٍّ بَعْدَ إِيمَانٍ ، وَزَانٍ بَعْدَ إِحْصَانٍ أَوْ قَاتِلِ نَفْسٍ فَيُقْتَلُ بِهَا اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ عزوجل نے ہر صاحبِ حق کو اس کا حق عطا فرما دیا ہے، یقیناً اللہ تعالیٰ نے فرائض مقرر کیے، سنتیں (طریقے) جاری فرمائیں، حدود متعین کیں، حلال کو جائز اور حرام کو ممنوع قرار دیا ہے؛ نیز اس نے اسلام کو بطورِ دین مشروع کر کے اسے نہایت سہل، کشادہ اور وسعت والا بنایا ہے اور اس میں کسی قسم کی تنگی نہیں رکھی۔ اے لوگو! آگاہ رہو کہ اس شخص کا کوئی کامل ایمان نہیں جس میں امانت داری نہیں، اور اس کا کوئی دین نہیں جس میں عہد کی پاسداری نہیں۔ جس کسی نے اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑا، اللہ اس کا محاسبہ کرے گا، اور جس نے میرے عہد و پیمان کی خلاف ورزی کی تو میں (بروزِ قیامت) اس کا فریقِ مخالف بنوں گا، اور میں جس کا فریقِ مخالف بن گیا تو میں اس پر اپنی قطعی دلیل کے ساتھ غالب آ جاؤں گا۔ جس نے میرا عہد توڑا اسے میری شفاعت نصیب نہیں ہوگی اور نہ ہی وہ میرے حوض پر وارد ہو سکے گا۔ خبردار! اللہ عزوجل نے کسی کے قتل کی اجازت نہیں دی سوائے تین صورتوں کے: ایمان لانے کے بعد مرتد ہو جانے والا، شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کا مرتکب ہونے والا، یا کسی جان کا قاتل جسے (قصاص میں) قتل کیا جائے۔“ (پھر آپ ﷺ نے التجا کی:) «اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ» ”اے اللہ! کیا میں نے (تیرا پیغام) پہنچا دیا؟“
امام مسدد اور امام ابویعلیٰ نے اس کی تخریج کی ہے، اس کی سند میں موجود راوی حسین بن قیس متروک اور ضعیف ہے، تاہم حدیث کے مفاہیم دیگر صحیح نصوص سے ثابت ہیں۔