المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الدين يسر باب: دین کے آسان ہونے کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ ، قَالَ : كَانَ مِنَّا ثَلَاثَةُ نَفَرٍ صَحِبُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بُرَيْدَةُ ، وَمِحْجَنٌ ، وَسُكْبَةُ ، فَقَالَ مِحْجَنٌ لِبُرَيْدَةَ : أَلَا تُصَلِّي كَمَا يُصَلِّي سُكْبَةُ ؟ فَقَالَ : لَا ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أُحُدٍ نَتَمَاشَى يَدُهُ فِي يَدِي ، فَرَأَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي ، فَقَالَ : أَتُرَاهُ جِدًّا ، أَتُرَاهُ صَادِقًا ؟ ، فَذَهَبْتُ أُثْنِي عَلَيْهِ ، فَلَمَّا دَنَوْنَا نَزَعَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ مِنْ يَدِي ، وَقَالَ : وَيْحَكَ ، اسْكُتْ ، لَا تُسْمِعْهُ فَتُهْلِكَهُ ، إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ .قبیلہ اسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم میں سے تین افراد ایسے تھے جنہوں نے نبی کریم ﷺ کی رفاقت اختیار کی: بریدہ، محجن اور سُکبہ رضی اللہ عنہم؛ سیدنا محجن نے سیدنا بریدہ سے کہا: ”کیا آپ اس طرح (ذوق و شوق سے) نماز نہیں پڑھتے جیسے سُکبہ پڑھتے ہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: ”نہیں، (میں ایسا نہیں کرتا کیونکہ) مجھے یاد ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ مقامِ احد سے واپس آ رہا تھا اور ہم ساتھ ساتھ چل رہے تھے جبکہ میرا ہاتھ آپ ﷺ کے دستِ مبارک میں تھا، اسی دوران نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو (بڑے اہتمام سے) نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو دریافت فرمایا: ”کیا تم اسے (عبادت میں) سخت محنت کرنے والا سمجھتے ہو؟ کیا تم اسے (اپنے دعوے میں) سچا مانتے ہو؟“ اس پر میں نے اس شخص کی تعریف و توصیف شروع کر دی، لیکن جب ہم اس کے بالکل قریب پہنچ گئے تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے چھڑا لیا اور فرمایا: ”افسوس تم پر! خاموش رہو، اسے (اپنی یہ تعریف) نہ سناؤ ورنہ تم اسے ہلاک کر دو گے، بے شک تمہارے دین کا بہترین عمل وہ ہے جو آسان (اور میانہ روی پر مبنی) ہو۔“
اسے امام مسدد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے، تاہم دیگر شواہد سے اس کی اصل ثابت ہے۔