❮
❯
حدیث نمبر: 2914
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ( ح ) .
2914 \ 2 - قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُبَايِعُكُمْ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللهِ شَيْئًا ، وَلَا تَسْرِقُوا ، وَلَا تَزْنُوا ، وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ بِغَيْرِ حَقٍّ ، فَمَنْ أَصَابَ هَذَا مِنْكُمْ ، فَعَجَّلَ لَهُ عُقُوبَتَهُ ، فَهُوَ كَفَّارَةٌ ، وَمَنْ سَتَرَ عَلَيْهِ ، فَأَمْرُهُ إِلَى اللهِ ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ ، وَإِنْ شَاءَ رَحِمَهُ ، وَمَنْ لَمْ يُصِبْ مِنْهُ شَيْئًا ، ضَمِنْتُ لَهُ الْجَنَّةَ . لَفْظُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، وَفِي رِوَايَةِ حَمَّادٍ : هَلْ تَدْرُونَ عَلَى مَا بَايَعْتُمُونِي ؟ قَالُوا : اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللهِ شَيْئًا ، وَالْبَاقِي نَحْوَهُ ، وَقَالَ : فَهُوَ كَفَّارَةُ ذَنْبِهِ ، وَقَالَ : فَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہم سے فرمایا: ”میں تم سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، چوری نہیں کرو گے، بدکاری کا ارتکاب نہیں کرو گے اور اس جان کو ناحق قتل نہیں کرو گے جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے؛ پس تم میں سے جو کوئی ان (کبیرہ گناہوں) میں سے کسی کا ارتکاب کر بیٹھے اور اسے دنیا ہی میں جلد سزا دے دی جائے تو وہ سزا اس کے لیے کفارہ بن جائے گی، اور جس کے گناہ پر اللہ پردہ ڈال دے تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے، اگر وہ چاہے تو اسے سزا دے اور اگر چاہے تو اس پر رحم فرمائے، اور جس نے ان میں سے کسی گناہ کا ارتکاب نہ کیا تو میں اس کے لیے جنت کا ضامن ہوں۔“ یہ عبد الواحد کی روایت کے الفاظ ہیں، جبکہ حماد کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ تم مجھ سے کس بات پر بیعت کر رہے ہو؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس بات پر کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے“، اس کے بعد باقی حدیث اسی طرح ہے، اور حماد کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ”پس وہ اس کے گناہ کا کفارہ ہے“ اور یہ کہ ”پس اس کا حساب اللہ عزوجل کے سپرد ہے۔“
اسے امام مسدد اور امام احمد بن منیع نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں لیث بن ابی سلیم اگرچہ ضعیف ہیں لیکن عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی صحیحین والی روایت اس کی شاہد ہے جس کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الإيمان والتوحيد / حدیث: 2914
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن لغيره. »
«أخرجه صحيح البخاري برقم: 18، 3679، 3680، 3777، 4612، 6402، 6416، 6479، 6787، 7030، وأخرجه صحيح مسلم برقم: 1709، وأخرجه سنن الترمذي برقم: 1439، وأخرجه سنن النسائي برقم: 4149، 4161، 4162، 4178، 4210، 5002، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 2603، وأخرجه مسند أحمد برقم: 22160، 22170، 22225، 22248، وأخرجه سنن الدارمي برقم: 2453، وأخرجه فتح الباري برقم: 18، 936، 3283، 5488، 6390، 6402، 6416، 6468، 6647، 6774، 6787، 7030، وأخرجه مسند البزار برقم: 2698، 2731، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 21019، وأخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 3293، 5582، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 9145، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 44/1»