المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الدين يسر باب: دین کے آسان ہونے کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ الْأَدْرَعِ ، قَالَ : كُنْتُ أَحْرُسُ لَيْلَةً رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ ، فَأَخَذَ بِيَدِي ، فَاتَّكَأَ عَلَيْهَا ، فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ رَافِعًا صَوْتَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَسَى أَنْ يَكُونَ مُرَائِيًا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ يُصَلِّي وَيَدْعُو ، فَرَفَضَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدِي ، وَقَالَ : إِنَّكُمْ لَنْ تُدْرِكُوا هَذَا الْأَمْرَ بِالْمُغَالَبَةِ ، أَوْ قَالَ بِالشِّدَّةِ ، قَالَ : ثُمَّ خَرَجْنَا لَيْلَةً أُخْرَى ، فَمَرَرْنَا بِرَجُلٍ يُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، عَسَى أَنْ يَكُونَ مُرَائِيًا ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا وَلَكِنَّهُ أَوَّاهٌ قَالَ : فَإِذَا الرَّجُلُ عَبْدُ اللهِ ذُو الْبِجَادَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَالْآخَرُ أَعْرَابِيٌّ .
هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ .
2911 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيِّبِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِنَحْوِهِ .سیدنا ابن الاَدْرَع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں ایک رات اللہ کے رسول ﷺ کی پہرے داری کر رہا تھا، میں کھڑا ہوا تو آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر اس پر ٹیک لگا لی، پھر ہمارا گزر ایک ایسے شخص پر ہوا جو مسجد میں بلند آواز سے نماز پڑھ رہا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”شاید یہ دکھاوا کرنے والا (ریاکار) ہو۔“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ تو (کمالِ خشوع سے) نماز پڑھ رہا ہے اور دعا مانگ رہا ہے، تو آپ ﷺ نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اس معاملے (دین) کو (ایک دوسرے پر) غلبہ پانے کی کوشش، یا (فرمایا) سختی کرنے سے ہرگز حاصل نہیں کر سکو گے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر ہم ایک اور رات نکلے اور ہمارا گزر ایک ایسے شخص پر ہوا جو بلند آواز سے نماز پڑھ رہا تھا، تو میں نے (سابقہ واقعے پر قیاس کرتے ہوئے) عرض کی: اے اللہ کے رسول! شاید یہ دکھاوا کرنے والا ہو، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ تو اَوَّاہ (یعنی کثرت سے گریہ و زاری کرنے اور اللہ کے حضور گڑگڑانے والا) ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ شخص سیدنا عبداللہ ذو البجادین رضی اللہ عنہ تھے اور دوسرا شخص ایک اعرابی (دیہاتی) تھا۔
یہ سند حسن ہے۔
اور امام ابو یعلیٰ رحمہ اللہ نے روایت کیا کہ ہم سے محمد بن اسحاق مسیبی نے بیان کیا، انہوں نے سلیمان بن داؤد سے، انہوں نے داؤد بن قیس سے اور انہوں نے زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔