المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ خِصَالِ الإيمان باب: ایمان کی خصلتوں اور اس کے اوصاف کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ ، أَنْبَأَنَا الرَّبِيعُ بْنُ أَنَسٍ قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ فَارَقَ الدُّنْيَا عَلَى الْإِخْلَاصِ لِلهِ ، وَعِبَادَتِهِ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، فَارَقَهَا وَاللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ رَاضٍ ، وَقَالَ أَنَسٌ : وَذَلِكَ دِينُ اللهِ الَّذِي جَاءَتْ بِهِ الرُّسُلُ ، وَبَلَّغُوا عَنْ رَبِّهِمْ قَبْلَ هَرْجِ الْأَحَادِيثِ ، وَاخْتِلَافِ الْأَهْوَاءِ ، يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : فَإِنْ تَابُوا قَالَ : خَلَعُوا الْأَنْدَادَ وَعِبَادَتَهَا وَأَقَامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص دنیا سے اس حال میں رخصت ہوا کہ وہ اللہ کے لیے اخلاص، اس کی یکتائی اور بلا شرکت غیرے عبادت کرنے، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے پر (کاربند) تھا، تو وہ اس حال میں رخصت ہوا کہ اللہ عزوجل اس سے راضی تھا۔“ اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے (مزید) فرمایا: ”یہی اللہ کا وہ دین ہے جسے تمام رسول لے کر آئے اور انہوں نے اسے باتوں کی کثرت (فتنوں) اور نفسانی خواہشات کے اختلاف سے پہلے اپنے رب کی طرف سے پہنچا دیا تھا۔“ چنانچہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ﴾ [سورة التوبة: 5]، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اس کی تشریح میں فرمایا کہ: ”انہوں نے شرکاء اور ان کی عبادت کو ترک کر دیا، نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی۔“
اس حدیث کی سند حسن ہے، اسے امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اور امام ابن ماجہ نے بھی اپنی سنن (حدیث: 70) میں اسے مختصراً روایت کیا ہے، نیز امام حاکم نے اسے مستدرک میں صحیح قرار دیا ہے۔