المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ خِصَالِ الإيمان باب: ایمان کی خصلتوں اور اس کے اوصاف کا بیان۔
وَقَالَ عَبْدٌ ، وَالْحَارِثُ جَمِيعًا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَاشِدٍ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَلَوْحًا فِيهِ ثَلَاثُمِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ شَرِيعَةً ، يَقُولُ الرَّحْمَنُ : وَعِزَّتِي وَجَلَالِي ، لَا يَأْتِينِي عَبْدٌ مِنْ عِبَادِي لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا ، فِيهِ وَاحِدَةٌ مِنْكُنَّ ، إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ .
2909 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ بِهِ .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک رحمن تبارک و تعالیٰ کے حضور ایک لوح (تختی) ہے جس میں تین سو پندرہ شریعتیں (ایمانی طریقے) درج ہیں، اللہ رحمن فرماتا ہے: «وَعِزَّتِي وَجَلَالِي» ”مجھے میری عزت اور میرے جلال کی قسم! میرا جو بھی بندہ میرے حضور اس حال میں پیش ہوگا کہ وہ میرے ساتھ کسی کو ذرہ برابر شریک نہیں ٹھہراتا ہوگا اور اس کے پاس ان (شریعتوں) میں سے کوئی ایک بھی خصلت موجود ہوئی تو وہ یقیناً جنت میں داخل ہوگا۔“
اور امام ابو یعلیٰ نے کہا: ہمیں احمد بن ابراہیم الدورقی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا ہمیں ابو عبد الرحمن المقرئ نے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی ہے۔