المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ خِصَالِ الإيمان باب: ایمان کی خصلتوں اور اس کے اوصاف کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الْجِيزِيُّ ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ النُّكْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ حَمَّادٌ : وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَدْ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : عُرَى الْإِسْلَامِ ، وَقَوَاعِدُ الدِّينِ ثَلَاثَةٌ ، عَلَيْهِنَّ أُسِّسَ الْإِسْلَامُ ، مَنْ تَرَكَ مِنْهُنَّ وَاحِدَةً ، فَهُوَ كَافِرٌ حَلَالُ الدَّمِ : شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَإِقَامَةُ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ ، ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : تَجِدُهُ كَثِيرَ الْمَالِ ، وَلَا يُزَكِّي ، وَلَا يَزَالُ بِذَلِكَ كَافِرًا ، وَلَا يَحِلُّ دَمُهُ ، وَتَجِدُهُ كَثِيرَ الْمَالِ ، لَمْ يَحُجَّ ، فَلَا يَزَالُ بِذَلِكَ كَافِرًا ، وَلَا يَحِلُّ دَمُهُ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے (راویِ حدیث حماد کہتے ہیں کہ جہاں تک میں جانتا ہوں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس قول کو نبی کریم ﷺ تک مرفوعاً پہنچایا ہے) کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اسلام کے مضبوط کڑے اور دین کی بنیادیں تین ہیں، جن پر اسلام کی اساس رکھی گئی ہے، جس نے ان میں سے کسی ایک کو بھی چھوڑ دیا وہ کافر ہے اور اس کا خون حلال ہے: (اول) اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، (دوم) فرض نماز قائم کرنا اور (سوم) رمضان کے روزے رکھنا۔“ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے (مزید وضاحت کرتے ہوئے) فرمایا: ”تم کسی شخص کو دیکھو گے کہ وہ مالدار ہے لیکن زکوٰۃ ادا نہیں کرتا، وہ اس عمل کی وجہ سے کافر ہی رہتا ہے (یعنی کفرِ اصغر کا مرتکب ہے) مگر اس کا خون حلال نہیں ہوتا، اسی طرح تم کسی بہت مالدار شخص کو پاؤ گے جس نے حج نہیں کیا ہوگا، تو وہ بھی اس کی وجہ سے کافر ہی قرار پاتا ہے مگر اس کا خون حلال نہیں ہوتا۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں مؤمل بن اسماعیل "سیئ الحفظ" ہیں اور عمرو بن مالک النکری بھی منفرد ہونے کی صورت میں ضعیف قرار پاتے ہیں، لہٰذا یہ سند ضعیف ہے، البتہ نماز اور روزے کی اہمیت کے حوالے سے دیگر صحیح احادیث میں شواہد موجود ہیں۔