المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ خِصَالِ الإيمان باب: ایمان کی خصلتوں اور اس کے اوصاف کا بیان۔
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : عَنْ قَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : عُرَى الْإِيمَانِ أَرْبَعٌ : وَالْإِسْلَامُ تَوَابِعُ ، عُرَى الْإِيمَانِ : أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ وَحْدَهُ ، وَبِمُحَمَّدٍ ، وَمَا جَاءَ بِهِ ، وَتُؤْمِنَ بِاللهِ ، وَتَعْلَمَ أَنَّكَ مَبْعُوثٌ بَعْدَ الْمَوْتِ ، وَإِقَامَةُ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ ، وَصِيَامُ رَمَضَانَ ، وَحَجُّ الْبَيْتِ ، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى .
بِشْرٌ ضَعِيفٌ جِدًّا .سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”ایمان کے چار مضبوط کڑے ہیں اور اسلام کے دیگر تمام احکامات و فرائض ان کے تابع ہیں؛ ایمان کے وہ کڑے یہ ہیں: یہ کہ تم اکیلے اللہ پر ایمان لاؤ، اور محمد ﷺ پر اور جو (شریعت) وہ لے کر آئے اس پر ایمان لاؤ، اور اللہ پر (پختہ) یقین رکھو، اور تمہیں اس بات کا یقینی علم ہو کہ تم موت کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے جاؤ گے، اور (ان بنیادی کڑوں کے ساتھ ساتھ) نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا (بھی دین کے اساسی ارکان ہیں)۔“
بشر بن نمیر نامی راوی سخت ضعیف ہے۔