المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ خِصَالِ الإيمان باب: ایمان کی خصلتوں اور اس کے اوصاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 2902
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَسْمُولِيُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَوَّلٍ الْبَهْزِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصِنِي ، قَالَ : أَقِمِ الصَّلَاةَ ، وَآتِ الزَّكَاةَ ، وَصُمْ رَمَضَانَ ، وَحُجَّ ، وَاعْتَمِرْ ، وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ ، وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ ... الْحَدِيثَ .ترجمہ
سیدنا مخول البہزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں عرض کیا کہ مجھے کوئی جامع وصیت فرمائیے، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم پابندی سے نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان المبارک کے روزے رکھو، بیت اللہ کا حج اور عمرہ ادا کرو، نیز نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند (2902) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی محمد بن سلیمان المسمولی ضعیف ہے۔