المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ بقاء الإيمان إِذَا أكره صاحبه عَلَى الكفر باب: کفر پر مجبور کیے جانے کے باوجود ایمان باقی رہنے کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، قَالَ : أَخَذَ الْمُشْرِكُونَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَعَذَّبُوهُ ، فَقَارَبُوهُ فِي بَعْضِ مَا أَرَادُوا بِهِ ، فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ تَجِدُ قَلْبَكَ ؟ قَالَ : مُطْمَئِنًّا بِالْإِيمَانِ ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَإِنْ عَادُوا ، فَعُدْ .
( 113 ) وَسَيَأْتِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ، ( بِسِيَاقٍ آخَرَ ) فِي تَفْسِيرِ سُورَةِ النَّحْلِ .ابو عبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مشرکین نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو پکڑ کر انہیں وحشیانہ تشدد اور اذیت کا نشانہ بنایا، (جان بچانے کی خاطر) انہوں نے مشرکین کے ان بعض مطالبات کی ہامی بھر لی جو وہ ان سے منوانا چاہتے تھے، پھر انہوں نے اس صورتحال کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا: ”تم اپنے دل کو کیسا پاتے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: ”میں اسے ایمان پر کامل طور پر مطمئن پاتا ہوں“، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر وہ دوبارہ تمہارے ساتھ یہی سلوک کریں تو تم بھی دوبارہ وہی کلمات کہہ دینا“۔
یہ روایت ان شاء اللہ تعالیٰ ایک اور سند اور مختلف سیاق کے ساتھ سورہ نحل کی تفسیر میں دوبارہ آئے گی۔