المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ خِصَالِ الإيمان باب: ایمان کی خصلتوں اور اس کے اوصاف کا بیان۔
وَقَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ التُّنُوخِيُّ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ أُمِّ أَيْمَنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : إِنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوصِي بَعْضَ أَهْلِهِ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تُشْرِكْ بِاللهِ شَيْئًا وَإِنْ قُطِّعْتَ أَوْ حُرِّقْتَ بِالنَّارِ وَإِيَّاكَ وَالْمَعْصِيَةَ فَإِنَّهَا تُسْخِطُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ ...الْحَدِيثَ .
2903 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِهِ .
2903 \ 3 - وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا " غَيْرُ سَعِيدٍ " عَنِ الزُّهْرِيِّ ، إِنَّ الْمُوصِيَ بِهَذِهِ الْوَصِيَّةِ ثَوْبَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .سیدہ امِ ایمن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے اہل خانہ میں سے کسی کو وصیت فرماتے ہوئے سنا، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، خواہ تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں یا تمہیں آگ میں جلا دیا جائے، اور تم اللہ کی نافرمانی سے (ہمیشہ) بچو، کیونکہ بیشک گناہ اللہ عزوجل کی سخت ناراضگی اور غصے کا سبب بنتا ہے“ (الحدیث)۔
امام ابو یعلیٰ نے ابوبکر بن زنجویہ، انہوں نے ابو مسہر، اور انہوں نے سعید بن عبدالعزیز کی سند سے اسی طرح روایت کیا ہے؛ نیز عبد بن حمید نے عمر بن سعید کی سند سے نقل کیا ہے، انہوں نے سعید کے علاوہ کسی اور سے اور انہوں نے امام زہری سے روایت کی ہے کہ جس ہستی کو یہ وصیت فرمائی گئی وہ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ تھے۔