المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ إثبات الإيمان لِمَنْ شهد الشهادتين وعمل صالحا باب: شہادتین اور نیک عمل کے ذریعے ایمان ثابت ہونے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو الْحَرْثِ سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا ( مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ) الْفَزَارِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو رَزِينٍ الْعُقَيْلِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَأَشْرَبَّنَ أَنَا وَأَنْتَ مِنْ لَبَنٍ لَمْ يَتَغَيَّرْ لَوْنُهُ قُلْتُ : كَيْفَ يُحْيِي اللهُ الْمَوْتَى ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَا مَرَرْتَ بِأَرْضٍ مُجْدِبَةٍ ، ثُمَّ مَرَرْتَ بِهَا مُخْصَبَةً ، ثُمَّ مَرَرْتَ بِهَا مُجْدِبَةً ، ثُمَّ مَرَرْتَ بِهَا مُخْصَبَةً ، قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَذَلِكَ النُّشُورُ ، قَالَ : قُلْتُ : كَيْفَ لِي بِأَنْ أَعْلَمَ أَنِّي مُؤْمِنٌ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ ، أَوْ مِنْ أُمَّتِي ، عَمِلَ حَسَنَةً ، وَعَلِمَ أَنَّهَا حَسَنَةٌ ، وَأَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ جَازِيهِ بِهَا خَيْرًا ، أَوْ عَمِلَ سَيِّئَةً ، وَأَنَّ اللهَ تَعَالَى جَازِيهِ بِهَا سُوءًا ، أَوْ يَغْفِرُهَا ، إِلَّا وَهُوَ مُؤْمِنٌ .سیدنا ابورزین عقیلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ”میں اور تم ضرور بالضرور (جنت میں) ایسا دودھ پییں گے جس کی رنگت اور کیفیت ہرگز تبدیل نہیں ہوئی ہوگی۔“ میں نے عرض کیا: (اے اللہ کے رسول ﷺ!) اللہ تعالیٰ مردوں کو دوبارہ کیسے زندہ فرمائے گا؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا تمہارا گزر ایسی قحط زدہ اور بنجر زمین سے نہیں ہوا جو بالکل ویران ہو، پھر تم وہاں سے گزرو تو وہ سرسبز و شاداب ہو، پھر تم وہاں سے گزرو تو وہ دوبارہ خشک و بنجر ہو چکی ہو، اور پھر تم وہاں سے گزرو تو وہ ہری بھری اور لہلہاتی ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، بالکل ایسا ہی ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اسی طرح (قیامت کے دن) دوبارہ جی اٹھنا ہوگا۔“ میں نے عرض کیا: مجھے یہ کیسے معلوم ہو کہ میں (حقیقی) مؤمن ہوں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس امت کا – یا آپ ﷺ نے فرمایا میری امت کا – جو بھی شخص کوئی نیک عمل کرے اور اسے یہ پختہ یقین ہو کہ یہ نیکی ہے اور اللہ عزوجل اسے اس کا بہترین بدلہ عطا فرمائے گا، یا وہ کوئی برائی کر بیٹھے اور اسے یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے اس برائی پر سزا دے گا یا اسے معاف فرما دے گا، تو ایسا شخص مؤمن ہے۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں سلیمان بن موسیٰ ہیں جن پر کلام ہے، تاہم اس کے شواہد دیگر معتبر کتبِ حدیث میں موجود ہیں۔