المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الخصال الَّتِي تدخل الجنة وتحقن الدم باب: جنت میں داخل کرنے اور خون محفوظ کرنے والی خصلتوں کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ ثَابِتِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اخْرُجْ فَنَادِ فِي النَّاسِ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ، قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَخَرَجْتُ فَلَقِيَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ مَا لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ ؟ قُلْتُ : قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ قَالَ : فَقَالَ : ارْجِعْ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَّكِلُوا عَلَيْهَا فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : مَا رَدَّكَ ؟ فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَدَقَ .سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (مجھ سے) ارشاد فرمایا: ”باہر تشریف لے جائیں اور لوگوں میں یہ اعلان کر دیں کہ جس کسی نے صدقِ دل سے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی“۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر میں (یہ حکم پا کر) نکلا تو میری ملاقات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی، انہوں نے دریافت کیا: اے ابوبکر! آپ کو کیا ہوا (کہاں کا ارادہ ہے)؟ میں نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے یہ بات فرمائی ہے، اور پھر انہیں پورا واقعہ سنایا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (یہ سن کر) کہا: ”آپ واپس لوٹ جائیں، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ محض اسی (خوشخبری) پر تکیہ کر کے بیٹھ جائیں گے (اور اعمالِ صالحہ میں سستی کریں گے)“، چنانچہ میں رسول اللہ ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں واپس حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تمہیں کس چیز نے واپس لوٹا دیا؟“ میں نے آپ ﷺ کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول کی خبر دی، جس پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”عمر نے سچ کہا ہے“۔
اس حدیث کو امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند (2889) میں نقل کیا ہے، اس کے راوی سوید بن سعید صدوق ہیں تاہم سوید بن عبدالعزیز ضعیف ہیں، لیکن اس واقعے کی اصل صحیح مسلم (حدیث: 31) میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے موجود ہے جس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اسی مصلحت آمیز مشورے اور نبی ﷺ کی جانب سے اس کی توثیق کا تذکرہ ہے۔