❮
❯
حدیث نمبر: 2888
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ صُحَارٍ ، حَدَّثَنَا أَشْيَاخُنَا ، أَنَّ عِيَاذًا حَدَّثَهُمْ : أَنَّ رَسُولَ اللهِ بَعَثَهُ فِي سَرِيَّةٍ ، فَجَابُوا مِنْ أَجْوِبَةِ الْأَعْرَابِ ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادَّعَى بَعْضُهُمْ أَنَّهُ كَانَ فِي الْإِسْلَامِ ، فَقَالَ : مَنْ يَعْلَمُ ذَاكَ ؟ ، قَالُوا : عِيَاذٌ سَمِعَهُ مِنَّا ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عِيَاذُ ، هَلْ سَمِعْتَهُ أَوْ شَهِدْتَهُ ؟ فَقُلْتُ : سَمِعْتُ أَذَانًا : وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، فَأَعْتَقَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ

سیدنا عیاض رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں ایک سریہ (فوجی دستے) میں روانہ فرمایا، پس وہ صحرائی عربوں کے علاقوں کی مسافت طے کر کے (کچھ لوگوں کو لے کر) آئے۔ جب وہ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو ان میں سے بعض (قیدیوں) نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ تو پہلے سے ہی اسلام قبول کر چکے ہیں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اس حقیقت کو کون جانتا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: عیاض نے یہ بات ہم سے خود سنی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عیاض! کیا تم نے واقعتاً ایسا سنا ہے یا تم اس پر گواہ ہو؟“ میں نے عرض کیا: میں نے (وہاں) اذان کی آواز سنی ہے اور «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کے کلمات سنے ہیں۔ پس رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کو (باعزت) رہا فرما دیا۔
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ موصلی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں بشر بن صحار موجود ہے جو کہ مستور الحال ہے، تاہم اذان سن کر کسی بستی کے بارے میں کفر کے بجائے اسلام کا حکم لگانے کا مفہوم صحیح بخاری و مسلم کی دیگر مستند روایات سے ثابت ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الإيمان والتوحيد / حدیث: 2888
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»