المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الخصال الَّتِي تدخل الجنة وتحقن الدم باب: جنت میں داخل کرنے اور خون محفوظ کرنے والی خصلتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 2886
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنِ الْجَارُودِ الْعَبْدِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُبَايِعُهُ ، فَقُلْتُ لَهُ : عَلَى أَنِّي إِنْ تَرَكْتُ دِينِي ، وَدَخَلْتُ فِي دِينِكَ ، لَا يُعَذِّبُنِي اللهُ تَعَالَى فِي الْآخِرَةِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ .
2886 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ .ترجمہ
سیدنا جارود عبدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں آپ ﷺ کی بیعت کرنے کے لیے حاضر ہوا، تو میں نے آپ ﷺ سے عرض کی: ”(میں اس شرط پر بیعت کرتا ہوں کہ) اگر میں اپنا سابقہ دین ترک کر دوں اور آپ کے دین میں داخل ہو جاؤں، تو کیا اللہ تعالیٰ مجھے آخرت میں عذاب نہیں دے گا؟“ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں (ایسا ہی ہے)۔“
امام ابویعلیٰ نے بھی اسے ابوبکر بن ابی شیبہ کے واسطے سے نقل کیا ہے۔