المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الخصال الَّتِي تدخل الجنة وتحقن الدم باب: جنت میں داخل کرنے اور خون محفوظ کرنے والی خصلتوں کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ الزِّمَّانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَالَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَاذَا يُنْجِي الْعَبْدَ مِنَ النَّارِ ؟ قَالَ : الْإِيمَانُ بِاللهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللهِ ، إِنَّ مَعَ الْإِيمَانِ عَمَلًا ؟ قَالَ : تَرْضَخُ مِمَّا رَزَقَكَ اللهُ ، أَوْ يَرْضَخُ مِمَّا رَزَقَهُ اللهُ قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللهِ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فَقِيرًا ، لَا يَجِدُ مَا يَرْضَخُ ؟ قَالَ : يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَيِيًّا ، لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَأْمُرَ بِالْمَعْرُوفِ ، وَلَا يَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَلْيَصْنَعْ لِأَخْرَقَ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ أَخْرَقَ ، لَا يُحْسِنُ أَنْ يَصْنَعَ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُعِينُ مَغْلُوبًا قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ ضَعِيفًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُعِينَ مَغْلُوبًا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا تُرِيدُ أَنْ تَدَعَ لِصَاحِبِكَ مِنْ خَيْرٍ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَلْيُمْسِكْ أَذَاهُ عَنِ النَّاسِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ فَعَلَ هَذَا ، لِيَدْخُلَ الْجَنَّةَ ؟ قَالَ : مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يَصْنَعُ خَصْلَةً مِنْ هَذِهِ الْخِصَالِ ، إِلَّا أَخَذَتْ بِيَدِهِ ، حَتَّى يَدْخُلَ الْجَنَّةَ .سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ وہ کیا چیز ہے جو بندے کو دوزخ کی آگ سے نجات دلاتی ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا ایمان کے ساتھ کسی (جسمانی یا مالی) عمل کا ہونا بھی ضروری ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے تمہیں جو رزق دیا ہے، اس میں سے کچھ (اللہ کی راہ میں) خرچ کیا کرے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! بھلا یہ بتائیے کہ اگر وہ شخص خود ہی نادار ہو اور اس کے پاس صدقہ کرنے کو کچھ نہ ہو تو کیا کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر وہ نیک بات کا حکم دے اور بری بات سے روک دے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر وہ شخص زبان کا لکنت زدہ (یا کمزور) ہو اور نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تو پھر وہ کسی اناڑی یا کام سے ناواقف شخص کی (اس کے کام میں) مدد کر دے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بھلا یہ بتائیے کہ اگر وہ خود ہی اناڑی ہو اور کوئی کام ڈھنگ سے نہ کر سکتا ہو؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ کسی مغلوب (یعنی کسی ستائے ہوئے یا لاچار) کی مدد کرے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر وہ اتنا کمزور ہو کہ کسی مغلوب کی مدد کرنے کی بھی ہمت نہ رکھتا ہو؟ آپ ﷺ نے (میری کثرتِ سوال پر) فرمایا: ”کیا تم اپنے ساتھی کے لیے بھلائی کا کوئی راستہ باقی نہیں رہنے دینا چاہتے؟“ پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ لوگوں کو اپنی اذیت سے بچائے رکھے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اگر وہ شخص ان میں سے کوئی ایک کام کر لے تو کیا وہ جنت میں داخل ہو جائے گا؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کوئی بھی ایسا مومن نہیں ہے جو ان خصلتوں میں سے کسی ایک خصلت کو بھی اختیار کرے گا، مگر وہ خصلت اس کا ہاتھ پکڑ لے گی یہاں تک کہ اسے جنت میں پہنچا دے گی۔“
اس حدیث کو امام ابو بکر بن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے اور اس کے تمام رجال ثقہ ہیں، امام البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔