المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الخصال الَّتِي تدخل الجنة وتحقن الدم باب: جنت میں داخل کرنے اور خون محفوظ کرنے والی خصلتوں کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ ضَمِنَ لِي سِتًّا ، ضَمِنْتُ لَهُ الْجَنَّةَ ، قِيلَ : وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا حَدَّثَ صَدَقَ ، وَإِذَا وَعَدَ أَنْجَزَ ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ وَفَّى ، وَمَنْ غَضَّ بَصَرَهُ ، وَحَفِظَ فَرْجَهُ ، وَكَفَّ يَدَهُ .
قُلْتُ : هَكَذَا أَخْرَجَهُ إِسْحَاقُ فِي مُسْنَدِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهَكَذَا رَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، وَرَوَاهُ غَيْرُهُمْ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّبَيْرِ غَيْرَ مَنْسُوبٍ فَإِنْ كَانَ مَعْمَرٌ حَفِظَهُ فَهُوَ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ ، وَلَكِنَّهُ مُنْقَطِعٌ ، وَإِنْ كَانَ زُهَيْرٌ حَفِظَهُ ، فَهُوَ مُتَّصِلٌ .سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص مجھے چھ باتوں کی ضمانت دے، میں اس کے لیے جنت کا ضامن ہوتا ہوں۔“ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! وہ چھ باتیں کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب وہ بات کرے تو سچ بولے، جب وعدہ کرے تو اسے پورا کرے، جب اسے امین بنایا جائے تو حقِ امانت ادا کرے، اور جو اپنی نگاہیں نیچی رکھے، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اور اپنے ہاتھ (کسی کو ایذا پہنچانے سے) روک کر رکھے۔“
میں کہتا ہوں: امام اسحاق نے اسے مسندِ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ میں اسی طرح روایت کیا ہے، اور احمد بن منصور رمادی نے بھی عبد الرزاق سے اسی طرح نقل کیا ہے، جبکہ دیگر رواۃ نے اسے ابو اسحاق سے، زبیر کے واسطے سے غیر منسوب روایت کیا ہے۔ پس اگر معمر نے اسے صحیح طور پر محفوظ کیا ہے تو اس کی سند صحیح ہے لیکن یہ منقطع ہے، اور اگر زہیر نے اسے محفوظ کیا ہے تو یہ متصل ہے۔