المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ كُلِّ مِنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ باب: «لا إله إلا الله» کہنے والے سے تعرض کی ممانعت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، ( عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ) عَنْ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أَشْرَعَ أَحَدُكُمُ الرُّمْحَ إِلَى الرَّجُلِ ، فَإِنْ كَانَ عِنْدَ ثُغْرَةِ نَحْرِهِ ، فَقَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، فَلْيَرْفَعْ عَنْهُ الرُّمْحَ قَالَ : فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : فَجَعَلَ اللهُ تَعَالَى هَذِهِ الْكَلِمَةَ أَمَنَةَ الْمُسْلِمِ ، وَعِصْمَةَ دَمِهِ ، وَجَعَلَ الْجِزْيَةَ أَمَنَةَ الْكَافِرِ ، وَعِصْمَةَ دَمِهِ .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص کسی (مخالف) آدمی کی طرف اپنا نیزہ تانے اور وہ (نیزہ) اس کے حلق کے گڑھے (شہ رگ) کے بالکل قریب پہنچ چکا ہو، پھر وہ شخص «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کہہ دے، تو (حملہ کرنے والے کو) چاہیے کہ فوری طور پر اس سے اپنا نیزہ ہٹا لے۔“ راوی کہتے ہیں کہ ابو عبیدہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کلمہ (توحید) کو مسلمان کے لیے باعثِ امن اور اس کے خون کی حفاظت و عصمت کا ذریعہ بنایا ہے، اور (اسی طرح) جزیہ کو (ذمی) کافر کے لیے باعثِ امن اور اس کی جان کے تحفظ کا ذریعہ قرار دیا ہے۔“
تخریج و تحکیم: یہ حدیث مسند احمد (2883) میں مروی ہے؛ اس کی سند میں انقطاع ہے کیونکہ ابو عبیدہ بن عبداللہ بن مسعود کا اپنے والد سے سماع ثابت نہیں ہے، تاہم کلمہ گو کے خون کی حرمت کے حوالے سے اس کا مفہوم دیگر صحیح اور مستند احادیث سے ثابت و مؤید ہے۔