❮
❯
حدیث نمبر: 2882
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا ، فَفُتِحَ لَهُ ، فَبَعَثُوا بَشِيرَهُمْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَمَا هُوَ يُخْبِرُهُ بِفَتْحِ اللهِ تَعَالَى ( لَهُمْ ) ، وَبِعَدَدِ مَنْ قَتَلَ اللهُ مِنْهُمْ ، قَالَ : فَتَفَرَّدْتُ بِرَجُلٍ مِنْهُمْ ، فَلَمَّا غَشِيتُهُ لِأَقْتُلَهُ ، قَالَ : إِنِّي مُسْلِمٌ فَقَتَلْتُهُ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَتَلْتَهُ وَقَدْ قَالَ إِنِّي مُسْلِمٌ ؟ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ مُتَعَوِّذًا ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَهَلَّا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ ؟ قَالَ : وَكُنْتُ أَعْرِفُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا لِسَانَهُ صَدَّقْتَ ، وَلَا قَلْبَهُ عَرَفْتَ ، إِنَّكَ لَقَاتِلُهُ ، اخْرُجْ عَنِّي ، فَلَا تُصَاحِبْنِي قَالَ : ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ تُوُفِّيَ ، فَلَفَظَتْهُ الْأَرْضُ مَرَّتَيْنِ ، فَأُلْقِيَ فِي بَعْضِ تِلْكَ الْأَوْدِيَةِ ، فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ : إِنَّ الْأَرْضَ لَتُوَارِي مَنْ هُوَ أَنْتَنُ مِنْهُ ، وَلَكِنَّهُ مَوْعِظَةٌ .
ترجمہ

ہارون بن رئاب سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا تو انہیں فتح نصیب ہوئی، پھر انہوں نے ایک خوشخبری سنانے والے کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں روانہ کیا، چنانچہ وہ جب آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ فتح اور ان مقتولین کی تعداد کی خبر دے رہا تھا جنہیں اللہ نے ہلاک کیا تھا تو اس نے بتایا کہ "میں ان میں سے ایک شخص پر اکیلا قابو پا گیا، پھر جب میں اسے قتل کرنے کے لیے اس پر غالب آیا تو اس نے پکار کر کہا کہ میں مسلمان ہوں، مگر میں نے اسے قتل کر دیا"، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: "کیا تم نے اسے قتل کر دیا جبکہ وہ کہہ چکا تھا کہ میں مسلمان ہوں؟" اس نے عرض کی: "اے اللہ کے رسول! اس نے یہ بات محض موت کے ڈر سے پناہ حاصل کرنے کے لیے کہی تھی"، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "تو کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟" اس نے عرض کی: "اے اللہ کے رسول! کیا میں دل چیر کر یہ بات جان سکتا تھا؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "نہ تم نے اس کی زبان کی تصدیق کی اور نہ ہی اس کے دل کا حال جان سکے، یقیناً تم ہی اس کے قاتل ہو، میرے پاس سے چلے جاؤ اور میری رفاقت اختیار نہ کرو"، راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر وہ شخص فوت ہو گیا تو زمین نے اسے دو مرتبہ قبر سے باہر پھینک دیا، چنانچہ اسے کسی پہاڑی وادی میں ڈال دیا گیا
بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ زمین اس سے بھی زیادہ بدبودار اور خبیث لوگوں کو اپنے اندر چھپا لیتی ہے لیکن یہ واقعہ محض لوگوں کے لیے عبرت و نصیحت کے طور پر ظاہر ہوا۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الإيمان والتوحيد / حدیث: 2882
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»