المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ كُلِّ مِنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ باب: «لا إله إلا الله» کہنے والے سے تعرض کی ممانعت کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ ، حَدَّثَنَا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، حَدَّثَنِي جُنْدُبُ بْنُ سُفْيَانَ رَجُلٌ مِنْ بَجِيلَةَ ، قَالَ : إِنِّي عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ بَشِيرٌ مِنْ سَرِيَّةٍ ، فَأَخْبَرَهُ بِنُصْرَةِ اللهِ تَعَالَى الَّذِي نَصَرَ سَرِيَّتَهُ ، وَبِفَتْحِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ الَّذِي فَتَحَ لَهُمْ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، بَيْنَا نَحْنُ نَطْلُبُ الْعَدُوَّ ، وَقَدْ هَزَمَهُمُ اللهُ تَعَالَى ، إِذْ لَحِقْتُ رَجُلًا بِالسَّيْفِ ، فَلَمَّا أَحَسَّ أَنَّ السَّيْفَ وَاقَعَهُ ، الْتَفَتَ وَهُوَ يَسْعَى ، فَقَالَ : إِنِّي مُسْلِمٌ ، فَقَتَلْتُهُ ، وَإِنَّمَا كَانَ يَا نَبِيَّ اللهِ مُتَعَوِّذًا ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ ، فَنَظَرْتَ صَادِقًا هُوَ أَوْ كَاذِبًا ؟ ، قَالَ : لَوْ شَقَقْتُ عَنْ قَلْبِهِ مَا كَانَ يُعْلِمُنِي ، هَلْ قَلْبُهُ إِلَّا مُضْغَةٌ مِنْ لَحْمٍ ؟ قَالَ : فَأَنْتَ قَتَلْتَهُ ، لَا مَا فِي قَلْبِهِ عَلِمْتَ ، وَلَا لِسَانَهُ صَدَّقْتَ ؟ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، اسْتَغْفِرْ لِي ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا أَسْتَغْفِرُ لَكَ فَمَاتَ ، فَدَفَنُوهُ ، فَأَصْبَحَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَلَمَّا رَأَى قَوْمُهُ ذَلِكَ اسْتَحْيَوْا ، وَحَذِرُوا ( مِمَّا لَقِيَ حِمْلُهُ ) فَأَلْقَوْهُ فِي شِعْبٍ مِنْ تِلْكَ الشِّعَابِ .
2881 \ 2 - وَقَالَ : وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ حَدَّثَنَا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، حَدَّثَنَا جُنْدُبُ بْنُ سُفْيَانَ رَجُلٌ مِنْ بَجِيلَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنِّي لَعِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ .سیدنا جندب بن سفیان بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر تھا کہ اسی دوران ایک جنگی مہم سے خوشخبری لانے والا قاصد آیا اور اس نے اللہ تعالیٰ کی اس غیبی مدد کی خبر دی جو اس نے اپنے لشکر کو عطا فرمائی تھی اور اس عظیم فتح کی اطلاع دی جو اللہ عزوجل نے ان کے مقدر میں لکھی تھی۔ اس نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! جب اللہ تعالیٰ دشمن کو شکست فاش دے چکا تھا اور ہم ان کا تعاقب کر رہے تھے، تو اسی اثنا میں مَیں نے تلوار تانے ایک شخص کو جا لیا، جب اسے یہ احساس ہوا کہ تلوار اس پر گرنے ہی والی ہے تو وہ بھاگتے ہوئے مڑا اور کہنے لگا: میں مسلمان ہوں، لیکن میں نے اسے قتل کر ڈالا، حالانکہ اے اللہ کے نبی! اس نے محض پناہ حاصل کرنے اور جان بچانے کی خاطر ایسا کہا تھا۔“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم نے اس کا دل چیر کر نہیں دیکھ لیا تھا تاکہ تمہیں معلوم ہو جاتا کہ وہ اپنے دعوے میں سچا تھا یا جھوٹا؟“ اس نے عرض کی: ”اگر میں اس کا دل چیر بھی لیتا تو وہ مجھے کچھ نہ بتاتا، کیا اس کا دل گوشت کے ایک ٹکڑے کے سوا کچھ اور ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اسے قتل تو کر دیا جبکہ نہ تمہیں اس کے دل کے بھید کا علم تھا اور نہ ہی تم نے اس کی زبان سے کہے گئے کلمات کی تصدیق کی۔“ اس نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! میرے لیے دعائے مغفرت فرما دیجیے۔“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہارے لیے ہرگز بخشش کی دعا نہیں کروں گا۔“ پھر وہ شخص فوت ہو گیا تو لوگوں نے اسے دفن کر دیا، لیکن صبح ہوئی تو وہ زمین کے اوپر پڑا ہوا تھا، ایسا تین مرتبہ ہوا، جب اس کی قوم نے یہ عبرتناک منظر دیکھا تو وہ نہایت شرمندہ ہوئے اور اس انجام سے ڈر گئے جس سے وہ شخص دوچار ہوا تھا، چنانچہ انہوں نے اسے پہاڑ کی ایک گھاٹی میں پھینک دیا۔
امام ابو یعلیٰ رحمہ اللہ نے ایک دوسری سند محمد بن بکار کے واسطے سے بھی سیدنا جندب بن سفیان بجلی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت بیان کی ہے۔