❮
❯
حدیث نمبر: 2869
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا فُلَانُ فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا ؟ قَالَ : لَا ، وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مَا فَعَلْتُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْلَمُ أَنَّهُ فَعَلَهُ ، وَكَرَّرَ عَلَيْهِ مِرَارًا كُلَّ ذَلِكَ يَقُولُ : لَا ، وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا فَعَلْتُهُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْلَمُ أَنَّهُ فَعَلَهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُفِّرَ عَنْ ذَنْبِكَ بِتَصْدِيقِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ .
2869 \ 2 - وَقَالَ عَبْدٌ :" حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثَنَا الْحَارِثُ بِهِ .
2869 \ 3 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، ثَنَا الْحَارِثُ بِهِ .
2869 \ 4 - وَأَخْرَجَهُ الْبَزَّارُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَأَشَارَ إِلَى تَفَرُّدِ الْحَارِثِ بْنِ عُبَيْدٍ بِهِ .
قُلْتُ : خَالَفَهُ حَمَّادُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِهِ فَقَالَ : عَنْ ثَابِتٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ حَمَّادٌ : لَمْ يَسْمَعْهُ ثَابِتٌ مِنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، بَيْنَهُمَا رَجُلٌ .
ترجمہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے کسی شخص سے دریافت فرمایا: ”اے فلاں! کیا تم نے فلاں فلاں کام کیا ہے؟“ اس نے عرض کیا: ”نہیں، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، میں نے وہ کام نہیں کیا“، حالانکہ رسول اللہ ﷺ کے علم میں تھا کہ اس نے وہ عمل کیا ہے، آپ ﷺ نے کئی مرتبہ اس سے یہی سوال دہرایا اور وہ ہر بار یہی کہتا رہا: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں“ کی قسم! میں نے ایسا نہیں کیا، جبکہ نبی کریم ﷺ یہ جانتے تھے کہ اس نے وہ فعل کیا ہے، تب رسول اللہ ﷺ نے اس سے ارشاد فرمایا: ”تیرے اس قول «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کی تصدیق و سچائی کے باعث تیرے اس گناہ کا کفارہ ادا ہو گیا (یعنی وہ معاف کر دیا گیا) ہے۔“
امام مسدد نے کہا: ہم سے حارث بن عبید نے، انہوں نے ثابت بنانی سے اور انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے؛ نیز امام عبد بن حمید نے مسلم بن ابراہیم سے اور انہوں نے حارث سے اسے روایت کیا ہے، اسی طرح امام ابو یعلیٰ نے ابوالربیع سے اور انہوں نے حارث سے اسے بیان کیا ہے اور امام بزار نے بھی اسی سند سے اسے روایت کیا اور حارث بن عبید کے اس میں منفرد ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ میں (مؤلف) کہتا ہوں: حماد بن سلمہ نے ان کی مخالفت کی ہے، امام احمد نے ان کے طریق سے روایت کیا کہ ثابت نے اسے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، جبکہ حماد کا قول ہے کہ ثابت نے اسے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خود نہیں سنا بلکہ ان کے درمیان ایک راوی کا واسطہ ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الإيمان والتوحيد / حدیث: 2869
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: خَالَفَهُ حَمَّادُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِهِ فَقَالَ : عَنْ ثَابِتٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ حَمَّادٌ : لَمْ يَسْمَعْهُ ثَابِتٌ مِنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، بَيْنَهُمَا رَجُلٌ . »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 16811، 16812، وأخرجه البحر الزخار المعروف بمسند البزار 10 - 18 برقم: 6903، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 4830/1، 6103/1»