المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ كلمة لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ باب: کلمۂ «لا إله إلا الله» کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الضَّحَّاكِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، ( ح )
2863 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ وَزَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ قَالَا : حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا مَسْتُورُ بْنُ عَبَّادٍ أَبُو هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَرَكْتُ حَاجَةً ، وَلَا دَاجَةً إِلَّا أَتَيْتُ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَيْسَ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ ؟ - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : ذَاكَ يَأْتِي عَلَى ذَاكَ لَفْظُ عَمْرٍو .
قَالَ الْبَزَّارُ : لَا نَعْلَمُ رَوَى مَسْتُورٌ عَنْ ثَابِتٍ إِلَّا هَذَا .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے کوئی چھوٹی بڑی حاجت اور گناہ کی کوئی ایسی طلب نہیں چھوڑی جس کا میں نے ارتکاب نہ کیا ہو (یعنی میں ہر طرح کے گناہ کا مرتکب ہو چکا ہوں)۔“ تو آپ ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا: ”کیا تم اس بات کی گواہی نہیں دیتے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں؟“ آپ ﷺ نے یہ سوال تین مرتبہ پوچھا، اس نے عرض کی: ”جی ہاں، (میں گواہی دیتا ہوں)۔“ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ (کلمہ شہادت اور ایمان) ان تمام (سابقہ گناہوں) پر غالب ہے اور انہیں مٹا دینے والا ہے۔“ یہ الفاظ عمرو (بن ضحاک) کے ہیں۔
امام بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ مستور نے ثابت سے اس حدیث کے علاوہ کوئی اور روایت نقل کی ہو۔