❮
❯
حدیث نمبر: 2864
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ : قَالَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ لِأَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمٍ : أَلَا تَخْرُجُ ، فَتُقَاتِلُ مَعَنَا ؟ فَقَالَ : إِنَّ أَبِي وَعَمِّي شَهِدَا بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَهِدَا إِلَيَّ أَنْ لَا أُقَاتِلَ أَحَدًا يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، فَإِنْ جِئْتَنِي بِبَرَاءَةٍ مِنَ النَّارِ قَاتَلْتُ مَعَكَ ، قَالَ : اذْهَبْ ، فَلَا حَاجَةَ لَنَا فِيكَ .
2864 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : لَمَّا قَاتَلَ مَرْوَانُ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ أَرْسَلَ إِلَى أَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمٍ الْأَسَدِيِّ ، فَقَالَ : إِنَّا نُحِبُّ أَنْ تُقَاتِلَ مَعَنَا ، فَقَالَ : إِنَّ أَبِي وَعَمِّي شَهِدَا بَدْرًا ، فَعَهِدَا إِلَيَّ أَنْ لَا أُقَاتِلَ أَحَدًا يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، فَإِنْ جِئْتَنِي بِبَرَاءَةٍ قَاتَلْتُ مَعَكَ قَالَ : اذْهَبْ ، وَوَقَعَ فِيهِ وَشَتَمَهُ ، فَأَنْشَأَ أَيْمَنُ بْنُ خُرَيْمٍ يَقُولُ :
لَسْتُ بِقَاتِلٍ رَجُلًا يُصَلِّي عَلَى سُلْطَانِ آخَرَ مِنْ قُرَيْشِ لَهُ سُلْطَانُهُ وَعَلَيَّ إِثْمِي
مَعَاذَ اللهِ مِنْ جَهْلٍ وَطَيْشِ أَأَقْتُلُ مُسْلِمًا فِي غَيْرِ شَيْءٍ
فَلَيْسَ بِنَافِعِي مَا عِشْتُ عَيْشِي .
ترجمہ

اسماعیل بن ابی خالد سے روایت ہے کہ مروان بن حکم نے ایمن بن خریم سے کہا: ”کیا تم ہمارے ساتھ نکل کر جنگ نہیں کرو گے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”یقیناً میرے والد اور میرے چچا رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ غزوۂ بدر میں حاضر ہوئے تھے اور ان دونوں نے مجھ سے یہ پختہ عہد لیا تھا کہ میں کسی ایسے شخص کے خلاف ہرگز قتال نہیں کروں گا جو اللہ کی وحدانیت کی گواہی دیتا ہو؛ لہٰذا اگر آپ میرے پاس جہنم کی آگ سے نجات کا کوئی پروانہ لا دیں تو میں آپ کے ساتھ مل کر لڑوں گا۔“ مروان نے کہا: ”یہاں سے چلے جاؤ، ہمیں تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے۔“
امام ابو یعلیٰ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ عامر شعبی سے روایت ہے کہ جب مروان بن حکم نے ضحاک بن قیس سے قتال کیا تو اس نے ایمن بن خریم اسدی کو پیغام بھیجا کہ ہم پسند کرتے ہیں کہ تم ہمارے ساتھ مل کر لڑو، انہوں نے جواب دیا: ”بے شک میرے والد اور میرے چچا غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے اور ان دونوں نے مجھ سے یہ عہد لیا تھا کہ میں کسی ایسے شخص سے نہیں لڑوں گا جو اللہ کی وحدانیت کی گواہی دیتا ہو، پس اگر آپ میرے پاس آگ سے خلاصی کی سند لے آئیں تو میں آپ کے ساتھ قتال کروں گا۔“ مروان نے انہیں برا بھلا کہا اور وہاں سے نکال دیا، جس پر ایمن بن خریم نے یہ اشعار کہے: ”میں کسی ایسے شخص کو ہرگز قتل نہیں کروں گا جو نماز پڑھتا ہو، محض اس لیے کہ قریش کے کسی دوسرے شخص کو اقتدار حاصل ہو جائے؛ اس کے پاس اس کی سلطنت ہوگی اور گناہ کا وبال مجھ پر ہوگا، میں نادانی اور طیش و غضب سے اللہ کی پناہ «مَعَاذَ اللهِ» ”اللہ کی پناہ مانگتا ہوں“؛ کیا میں کسی مسلمان کو ناحق قتل کر دوں؟ اگر میں نے ایسا کیا تو جب تک میں زندہ رہوں گا میری زندگی کی راحتیں مجھے کوئی نفع نہیں دیں گی۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الإيمان والتوحيد / حدیث: 2864
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«أخرجه المستدرك للحاكم برقم: 2682، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 16912، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 947، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 2864 / 2، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 852»