المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ كلمة لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ باب: کلمۂ «لا إله إلا الله» کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، حَدَّثَنَا مَيْسَرَةُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ، قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ مَنْ لَقِيَ اللهَ تَعَالَى وَهُوَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصًا ، دَخَلَ الْجَنَّةَ فَقَامَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ : بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ ، كَيْفَ يُخْلِصُ بِهَا ؟ أَلَا يَخْلِطُ مَعَهَا غَيْرَهَا ؟ بَيِّنْ لَنَا حَتَّى نَعْرِفَهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : حِرْصًا عَلَى الدُّنْيَا ، وَجَمْعًا لَهَا مِنْ غَيْرِ حِلِّهَا ، وَرِضًا بِهَا ، وَأَقْوَامٌ يَقُولُونَ أَقَاوِيلَ الْأَحْبَارِ ، وَيَعْمَلُونَ عَمَلَ الْفُجَّارِ ، فَمَنْ لَقِيَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ هَذِهِ الْخِصَالِ ، يَقُولُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، دَخَلَ الْجَنَّةَ .سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی جس میں یہ الفاظ بھی تھے: ”اے لوگو! بے شک جو شخص اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے کہ وہ اخلاص کے ساتھ اس بات کی گواہی دے رہا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا“، اس پر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اس کلمہ میں اخلاص کس طرح پیدا ہوتا ہے؟ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ساتھ کسی اور چیز کی آمیزش نہ کی جائے؟ آپ ہمارے لیے اس کی وضاحت فرما دیں تاکہ ہم اسے پہچان لیں“، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”(اخلاص یہ ہے کہ) دنیا کی حرص نہ ہو، اسے غیر حلال ذرائع سے جمع نہ کیا جائے، اسی پر راضی و مگن نہ ہو جایا جائے، اور ان لوگوں جیسا نہ بنا جائے جو باتیں تو علماء اور بزرگوں جیسی کرتے ہیں مگر ان کے عمل بدکاروں والے ہوتے ہیں، پس جو شخص اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے کہ اس میں ان (بری) خصلتوں میں سے کوئی اثر موجود نہ ہو اور وہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کہتا ہو، تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا“۔
اسے امام حارث نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، یہ روایت موضوع یعنی من گھڑت ہے کیونکہ اس کے راوی میسرہ بن عبد ربہ اور داؤد بن المحبر کذاب اور حدیثیں گھڑنے والے ہیں۔