المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ كلمة لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ باب: کلمۂ «لا إله إلا الله» کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ قَالَ : سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ قَيْسٍ ، قَالَ : قَدِمَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى مُعَاوِيَةَ ، وَهُوَ بِإِيلْيَا ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ خَرَجَ ، فَطُلِبَ فَلَمْ يُوجَدْ ، قَالَ : فَأَتَيْنَاهُ ، فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي فِي بَرَازٍ مِنَ الْأَرْضِ ، فَقَالَ : مَا جَاءَ بِكُمْ ؟ قُلْنَا جِئْنَا لِنُحْدِثَ بِكَ عَهْدًا ، أَوْ نَقْضِيَ مِنْ حَقِّكَ ، قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَعِنْدِي جَائِزَتُكُمْ ، كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ حَدِيثًا ، قَالَ : فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : يَا ابْنَ عَامِرٍ ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، يُصَدِّقُ قَلْبُهُ لِسَانَهُ ، دَخَلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ .مالک بن قیس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایلیا (بیت المقدس) میں تشریف لائے، ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ وہ وہاں سے تشریف لے گئے، انہیں تلاش کیا گیا تو وہ نہ ملے، راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم ان کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ وہ زمین کے ایک کھلے اور نمایاں میدان میں نماز ادا فرما رہے تھے، انہوں نے دریافت فرمایا: ”تمہیں یہاں کس مقصد کے لیے آنا ہوا؟“ ہم نے عرض کیا: ”ہم آپ سے تجدیدِ ملاقات کرنے یا آپ کا حقِ زیارت ادا کرنے کے لیے حاضر ہوئے ہیں“، سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرے پاس تمہارے لیے تمہارا انعام و تحفہ موجود ہے؛ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے“، پھر انہوں نے ایک حدیث ذکر کی اور کہا: ”تب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابن عامر! رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اس طرح کہ اس کا دل اس کی زبان کی مکمل تصدیق و تائید کرتا ہو، تو وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے گا داخل ہو جائے گا“۔“
اس حدیث کی تخریج امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں کی ہے، اس کی سند میں عبدالرحمن بن زیاد بن انعم الافریقی اگرچہ حفظ کے اعتبار سے ضعیف ہے، تاہم توحید کی بنیاد پر جنت میں داخلے کی یہ بشارت دیگر مستند و صحیح احادیث سے ثابت ہے۔