❮
❯
حدیث نمبر: 2858
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : لَقِيَ أَبُو بَكْرٍ طَلْحَةَ ، فَقَالَ : مَا لِي أَرَاكَ أَصْبَحْتَ وَاجِمًا ؟ قَالَ : لَا ، إِلَّا كَلِمَةٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ! يَقُولُ : إِنَّهَا مُوجِبَةٌ ، فَلَمْ أَسْأَلْهُ عَنْهَا ، قَالَ : لَكِنِّي أَعْلَمُهَا ، قَالَ مَا هِيَ ؟ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ .
هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ إِنْ كَانَ شَقِيقٌ سَمِعَهُ مِنْ طَلْحَةَ ، وَهُوَ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ .
2858 \ 2 - فَقَدْ قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ شَقِيقٍ ، حُدِّثْتُ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ لَقِيَ طَلْحَةَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
ترجمہ

شقیق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ملاقات سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو انہوں نے دریافت فرمایا: ”کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو اس حال میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ سخت رنجیدہ اور اداس ہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: ”کوئی ایسی بات نہیں ہے، سوائے اس ایک کلمے کے جو میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا کہ: ”یقیناً یہ (جنت کو) واجب کر دینے والا کلمہ ہے“ لیکن میں (فرطِ عقیدت یا کسی وجہ سے) آپ ﷺ سے اس کے متعلق دریافت نہ کر سکا کہ وہ کلمہ کون سا ہے۔“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”لیکن میں اس کلمے کو جانتا ہوں۔“ انہوں نے پوچھا: ”وہ کیا ہے؟“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ کلمہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ ہے۔
یہ اسناد حسن ہے بشرطیکہ شقیق کا سماع سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے ثابت ہو، اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہ حدیث غریب ہے۔
نیز امام اسحاق نے جریر، منصور اور شقیق کے واسطے سے بیان کیا کہ مجھے یہ خبر دی گئی کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ملاقات سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی، پھر انہوں نے مذکورہ بالا روایت کی طرح ہی تذکرہ کیا۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الإيمان والتوحيد / حدیث: 2858
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ إِنْ كَانَ شَقِيقٌ سَمِعَهُ مِنْ طَلْحَةَ ، وَهُوَ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ . »
«أخرجه مسند أبي يعلى برقم: 102، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 2858 / 2»