المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الرؤيا باب: خواب کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا السَّكَنُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ : أُمَّ رَأْسِي قُطِعَ ، وَإِنِّي جَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِ ، قَالَ : فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ : بِأَيِّ عَيْنٍ كُنْتَ تَنْظُرُ إِلَى رَأْسِكَ إِذَا قُطِعَ قَالَ : فَلَمْ يَلْبَثْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ إِلَّا قَلِيلًا ، حَتَّى تُوُفِّيَ ، فَأَوَّلُوا قَطْعَ رَأْسِهِ مَوْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَظَرَهُ اتِّبَاعَهُ سُنَنِهِ .
انْتَهَى الْجُزْءُ الْأَوَّلُ مِنْ كِتَابِ الْمَطَالِبِ الْعَالِيَةِ بِزَوَائِدِ الْمَسَانِيدِ الثَّمَانِيَةِ جَمْعِ شَيْخِنَا الْإِمَامِ الْعَلَّامَةِ شَيْخِ الْإِسْلَامِ خَاتِمَةِ الْحُفَّاظِ قَاضِي الْقُضَاةِ شِهَابِ الدِّينِ أَبِي الْفَضْلِ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَجَرٍ الْكِنَانِيِّ الْعَسْقَلَانِيِّ الْمِصْرِيِّ الشَّافِعِيِّ تَغَمَّدَهُ اللهُ بِرَحْمَتِهِ آمِينَ .
فِي يَوْمَ السَّبْتِ مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الثَّانِي أَحَدِ شُهُورِ سَنَةِ خَمْسٍ وَسَبْعِينَ وَثَمَانِي مِائَةٍ بِمَكَّةَ الْمُشَرَّفَةِ ، وَالْحَمْدُ لِلهِ وَصَلَّى اللهُ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ .
وَحَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ .ابو مجلز رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میرے سر کا اوپری حصہ کاٹ دیا گیا ہے اور میں خود اسے (اپنے کٹے ہوئے سر کو) دیکھ رہا ہوں۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ مسکرا دیے اور پھر دریافت فرمایا: ”جب تمہارا سر کاٹ دیا گیا تھا تو پھر تم اپنی کس آنکھ سے اسے دیکھ رہے تھے؟“ راوی کہتے ہیں کہ اس واقعے کے تھوڑی ہی مدت بعد رسول اللہ ﷺ کی وفات ہو گئی، چنانچہ اہل علم نے اس شخص کے سر کٹنے کی تعبیر نبی کریم ﷺ کی وفات سے کی اور اس کے دیکھنے کی تعبیر آپ ﷺ کی سنتوں کی اتباع و پیروی سے کی۔
یہاں کتاب "المطالب العالیہ بزوائد المسانید الثمانیہ" کا پہلا حصہ مکمل ہوا، جو ہمارے شیخ، امام، علامہ، شیخ الاسلام، حافظِ حدیث، قاضی القضاۃ شہاب الدین ابو الفضل احمد بن علی بن محمد بن حجر الکنانی العسقلانی المصری الشافعی رحمہ اللہ کی تالیف ہے، اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت کے سائے میں جگہ دے، «آمين»۔ اس کی تحریر بروز ہفتہ، ماہ ربیع الثانی، سن 875 ہجری میں مکہ مکرمہ میں مکمل ہوئی، اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، نیز اللہ تعالیٰ ہمارے سردار حضرت محمد ﷺ، آپ کی آل اور صحابہ کرام پر رحمتیں اور سلامتی نازل فرمائے۔
«حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» ”ہمیں اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے“۔