المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الرؤيا باب: خواب کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
وَعَنْ حَبِيبٍ ، وَحُمَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : بَيْنَا أَنَا أَنْزِعُ اللَّيْلَةَ ، إِذْ وَرَدَتْ عَلَيَّ غَنَمٌ سُودٌ ، وَغَنَمٌ عُفْرٌ ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَنَزَعَ ذَنُوبًا ، أَوْ ذَنُوبَيْنِ فِيهِمَا ضَعْفٌ ، وَاللهُ يَغْفِرُ لَهُ ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَاسْتَحَالَ غَرْبًا ، فَمَلَأَ الْحِيَاضَ ، وَأَرْوَى الْوَارِدَ ، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ أَحْسَنَ نَزْعًا مِنْهُ ، فَأَوَّلْتُ أَنَّ الْغَنَمَ السُّودَ الْعَرَبُ ، وَالْعُفْرَ الْعَجَمُ .
2852 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ غَنَمًا سُودًا يَتْبَعُهَا غَنَمٌ عُفْرٌ ، فَأَوَّلْتُ السُّودَ الْعَرَبَ ، وَالْعُفْرَ الْعَجَمَ .حسن بصری رحمہ اللہ اور سیدنا ابو الطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”آج رات میں (خواب میں) پانی نکال رہا تھا کہ اچانک میرے پاس کچھ کالی بھیڑیں اور کچھ سفیدی مائل بھوری رنگت کی بھیڑیں آئیں، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور انہوں نے ایک یا دو ڈول نکالے مگر ان کے نکالنے میں کچھ کمزوری محسوس ہوئی، اللہ تعالیٰ ان سے درگزر فرمائے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو وہ ڈول ایک بہت بڑے ڈول کی صورت اختیار کر گیا، انہوں نے (اس سے پانی نکال کر) تمام حوض بھر دیے اور آنے والے ہر شخص کو سیراب کر دیا، میں نے لوگوں میں عمر رضی اللہ عنہ جیسا کوئی عبقری اور کمال کا حامل شخص نہیں دیکھا جو ان کی طرح مہارت اور قوت سے پانی نکالنے والا ہو۔ میں نے اس خواب کی یہ تعبیر نکالی کہ کالی بھیڑوں سے مراد اہل عرب ہیں اور سفیدی مائل بھوری بھیڑوں سے مراد اہل عجم ہیں۔“
امام بزار کی روایت میں سیدنا ابو الطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں نے نیند کی حالت میں دیکھا کہ کالی بھیڑیں ہیں جن کے پیچھے سفیدی مائل بھوری بھیڑیں لگی ہوئی ہیں، تو میں نے کالی بھیڑوں کی تعبیر اہل عرب اور سفیدی مائل بھوری بھیڑوں کی تعبیر اہل عجم سے لی ہے۔“