المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ السَّمَرِ بَعْدَ الْعِشَاءِ باب: عشاء کے بعد گفتگو کرنے کا بیان۔
قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : سَمِعَتْ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا كَلَامِي بَعْدَ الْعِشَاءِ الَّتِي تُسَمِّيهَا الْأَعْرَابُ الْعَتَمَةَ - قَالَ : وَكُنَّا فِي حُجْرَةٍ بَيْنَهَا وَبَيْنَهَا سَعَفٌ ، فَقَالَتْ : يَا عُرَيَّةُ - أَوْ يَا عُرْوَةُ - مَا هَذَا السَّمَرُ ؟ إِنِّي مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [نَائِمًا قَبْلَ هَذِهِ الصَّلَاةِ ، وَلَا مُتَحَدِّثًا بَعْدَهَا ، إِمَّا نَائِمًا فَيَسْلَمُ ، وَإِمَّا مُصَلِّيًا فَيَغْنَمُ ] .
285 \ 2 - [وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، ثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَمْزَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : ( مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] نَائِمًا قَبْلَ الْعِشَاءِ ، وَلَا لَاغِيًا بَعْدَهَا ؛ إِمَّا ذَاكِرًا فَيَغْنَمُ ، وَإِمَّا نَائِمًا فَيَسْلَمُ ) .ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد (عروہ بن زبیر رحمہ اللہ) سے روایت کرتے ہیں کہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عشاء کی نماز کے بعد، جسے بدو لوگ عتمہ کہتے تھے، میری گفتگو سنی؛ ہم ایک ایسے کمرے میں تھے جس کے اور ان کے درمیان کھجور کے پتوں اور شاخوں کی اوٹ تھی، تو انہوں نے پکار کر فرمایا: ”اے عُریہ! یا اے عروہ! یہ رات کے وقت کیسی باتیں ہو رہی ہیں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی اس نماز سے پہلے سوتے ہوئے نہیں دیکھا، اور نہ ہی اس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے پایا، آپ ﷺ یا تو سو کر (دن بھر کی تھکن اور لغویات سے) سلامتی پاتے تھے، یا پھر نماز پڑھ کر (اجر و ثواب) حاصل کرتے تھے۔“
امام ابو یعلیٰ نے اپنی سند سے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی عشاء سے پہلے سوتے ہوئے اور نہ ہی اس کے بعد فضول باتوں میں مشغول دیکھا؛ آپ ﷺ یا تو اللہ کا ذکر کرتے ہوئے (خیر و بھلائی) سمیٹتے تھے، یا پھر سو کر (ہر قسم کے شر سے) محفوظ رہتے تھے۔“