المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ كَرَاهِيَةِ النَّوْمِ قَبْلَهَا باب: عشاء کی نماز سے قبل سونے کی ناپسندیدگی کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ [عُقْبَةَ] ، قَالَ سَمِعْتُ [ كَبْشَةَ] بِنْتَ كَعْبٍ ، تَقُولُ : كُنْتُ أَبِيتُ قَبْلَ الْعَتَمَةِ ، فَإِذَا سَمِعْتُ الْإِقَامَةَ قُمْتُ فَصَلَّيْتُ ، فَبَلَغَنِي أَنَّهُ يُكْرَهُ ، فَسَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَكَرِهَهُ ، وَقَالَ : ( لَا تَنَامِي قَبْلَهَا ) .سیدہ کبشہ بنت کعب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ میں عشاء کی نماز (عتمہ) سے پہلے سو جایا کرتی تھی، پھر جب میں اقامت کی آواز سنتی تو بیدار ہو کر نماز ادا کر لیتی تھی، پھر مجھے یہ اطلاع ملی کہ عشاء سے قبل سونا ناپسندیدہ عمل ہے، چنانچہ میں نے اس متعلق سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا تو انہوں نے بھی اسے ناپسند فرمایا اور تاکیداً حکم دیا کہ: ”تم عشاء کی نماز سے پہلے ہرگز نہ سویا کرو۔“
یہ روایت امام مسدد بن مسرہد رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں ذکر کی ہے، اور عشاء کی نماز سے قبل سونے اور اس کے بعد بلا ضرورت گفتگو کرنے کی کراہت دیگر صحیح احادیث سے بھی ثابت ہے تاکہ عشاء کی نماز فوت نہ ہو یا جماعت میں خلل واقع نہ ہو۔