المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الرؤيا باب: خواب کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، حَدَّثَنَا مَيْسَرَةُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ، قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا ، وَفِيهِ : وَمَنْ تَحَلَّمَ مَا لَمْ يَحْلُمْ كَانَ كَمَنْ شَهِدَ الزُّورَ ، وَكُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَعْقِدَ بَيْنَ شَعِيرَتَيْنِ ، يُعَذَّبُ حَتَّى يَعْقِدَهُمَا ، وَلَا يَعْقِدُهُمَا .سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک طویل خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں یہ (ارشاد) بھی تھا کہ: ”اور جس شخص نے (اپنے سے منسوب کر کے) ایسے خواب کا جھوٹا دعویٰ کیا جو اس نے حقیقت میں نہیں دیکھا تھا، تو وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے جھوٹی گواہی دی، اور قیامت کے دن اسے اس کٹھن کام کا مکلف بنایا جائے گا کہ وہ جَو کے دو دانوں کے درمیان گرہ لگائے، اور اسے تب تک عذاب دیا جاتا رہے گا جب تک کہ وہ ان میں گرہ نہ لگا لے، حالانکہ وہ ہرگز ایسا نہیں کر پائے گا۔“
اس روایت کی سند میں داؤد بن المحبر اور میسرہ بن عبد ربہ جیسے کذاب و وضاع راوی موجود ہیں جس کی وجہ سے یہ روایت من گھڑت (موضوع) ہے، البتہ جَو کے دو دانوں میں گرہ لگانے والی وعید صحیح بخاری (رقم: 7042) میں دیگر مستند و صحیح اسناد سے ثابت ہے۔