المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الرؤيا باب: خواب کا بیان۔
وَقَالَ الْحُمَيْدِيُّ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : رَأَيْتُ كَأَنَّ ثَلَاثَةَ أَقْمَارٍ سَقَطْنَ فِي حُجْرَتِي ، فَسَأَلْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ : يَا عَائِشَةُ إِنْ صَدَقَتْ رُؤْيَاكِ ، يُدْفَنُ فِي بَيْتِكِ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ ثَلَاثَةٌ ، فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدُفِنَ ، قَالَ لِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يَا عَائِشَةُ هَذَا خَيْرُ أَقْمَارِكِ ، وَهُوَ أَحَدُهَا .
صَحَّحَهُ الْحَاكِمُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے (خواب میں) دیکھا جیسے تین چاند میرے حجرے میں آ گرے ہوں، تو میں نے اس کے بارے میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، انہوں نے فرمایا: اے عائشہ! اگر تمہارا یہ خواب سچا ثابت ہوا تو تمہارے گھر میں روئے زمین کے بہترین تین نفوس دفن کیے جائیں گے، چنانچہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی اور آپ ﷺ (میرے حجرے میں) مدفون ہوئے، تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: اے عائشہ! یہ (رسول اللہ ﷺ) تمہارے ان چاندوں میں سب سے بہتر اور افضل ہیں اور وہ ان تینوں میں سے ایک (یعنی پہلے) ہیں۔“
امام حاکم نے اس سند کے ساتھ اسے صحیح قرار دیا ہے اور اسے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث سے مرفوعاً بھی روایت کیا ہے۔