المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ إكرام الْكَبِيرِ باب: بزرگوں کی عزت و تکریم اور ان کی قدر و منزلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2838
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ الثَّقَفِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : إِنَّ جَرِيرَ بْنَ يَزِيدَ بْنِ جَرِيرٍ أَتَاهُ ، فَأَلْقَى لَهُ وِسَادَةً ، وَعِنْدَهُ مَشْيَخَةٌ ، فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ :إِذَا أَتَاكُمْ كَرِيمُ قَوْمٍ فَأَكْرِمُوهُ .ترجمہ
امام شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جریر بن یزید بن جریر ان کے پاس تشریف لائے، تو انہوں نے ان کے اعزاز میں (بیٹھنے کے لیے) ایک تکیہ بچھا دیا، حالانکہ ان کے پاس کچھ معزز بزرگ و مشائخ بھی تشریف فرما تھے۔ اس طرزِ عمل پر جب ان سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب تمہارے پاس کسی قوم کا کوئی معزز و ذی وقار شخص آئے تو اس کی عزت و تکریم کیا کرو۔“
اس روایت کو امام مسدد بن مسرہد نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے اور یہ حدیث دیگر مستند شواہد کی بنا پر حسن درجہ کی ہے۔