المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ إكرام المشركين باب: مشرکین کی عزت افزائی اور ان کی توقیر کرنے سے روکنے اور اس پر سرزنش کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2839
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ الْقُشَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَافَحَ الْمُشْرِكُونَ ، أَوْ يُكَنَّوْا ، أَوْ يُرَحَّبَ بِهِمْ .ترجمہ
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”رسول اللہ ﷺ نے مشرکین سے مصافحہ کرنے، انہیں (بطورِ اعزاز) کنیت سے پکارنے، یا ان کا خیر مقدم (مرحبا کہہ کر) کرنے سے منع فرمایا ہے۔“
مسند اسحاق بن راہویہ: 2839، اس کی سند میں موجود راوی محمد بن مسلم القشیری ضعیف ہے جس کی وجہ سے یہ روایت استنادی طور پر کمزور ہے۔