المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ آدَابِ الرسل باب: قاصدوں اور سفیروں کے آداب و طور طریقوں کا بیان۔
قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : كُنْتُ مَعَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : اذْهَبْ ، فَأَعْلِمْنِي مَنْ ذَلِكَ ؟ قَالَ : وَكَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا بَعَثَ رَجُلًا فِي حَاجَةٍ يَقُولُ : إِذَا رَجَعْتَ فَأَعْلِمْنِي مَا بَعَثْتُكَ فِيهِ ؟ وَمَا يُرَدُّ عَلَيَّ ، فَقُلْتُ : إِنَّكَ أَمَرْتَنِي أَنْ أَعْلَمَ مَنْ ذَاكَ ، وَإِنَّهُ صُهَيْبٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَإِنَّ مَعَهُ أَمَةً ، قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَلْيَلْحَقْ بِنَا ، وَإِنْ كَانَتْ مَعَهُ أَمَةٌ ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: ”جاؤ اور معلوم کر کے مجھے خبر دو کہ وہ کون صاحب ہیں؟“ راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ معمول تھا کہ جب بھی وہ کسی شخص کو کسی ضرورت یا کام سے بھیجتے تو (تاکیداً) یہ فرماتے: ”جب تم واپس پلٹو تو مجھے اس معاملے کی پوری خبر دینا جس کے لیے میں نے تمہیں بھیجا ہے، اور یہ بھی بتانا کہ وہاں سے مجھے کیا جواب دیا گیا ہے؟“ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے (واپس آ کر) عرض کی: آپ نے مجھے یہ پتہ لگانے کا حکم دیا تھا کہ وہ کون شخص ہے، تو وہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ ہیں اور ان کے ساتھ ایک لونڈی بھی ہے، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”انہیں کہو کہ وہ ہمارے ساتھ آ ملیں، اگرچہ ان کے ساتھ لونڈی ہی کیوں نہ ہو...“ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
[مسند اسحاق بن راہویہ: 2837]