❮
❯
حدیث نمبر: 2837
قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : كُنْتُ مَعَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : اذْهَبْ ، فَأَعْلِمْنِي مَنْ ذَلِكَ ؟ قَالَ : وَكَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا بَعَثَ رَجُلًا فِي حَاجَةٍ يَقُولُ : إِذَا رَجَعْتَ فَأَعْلِمْنِي مَا بَعَثْتُكَ فِيهِ ؟ وَمَا يُرَدُّ عَلَيَّ ، فَقُلْتُ : إِنَّكَ أَمَرْتَنِي أَنْ أَعْلَمَ مَنْ ذَاكَ ، وَإِنَّهُ صُهَيْبٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَإِنَّ مَعَهُ أَمَةً ، قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَلْيَلْحَقْ بِنَا ، وَإِنْ كَانَتْ مَعَهُ أَمَةٌ ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: ”جاؤ اور معلوم کر کے مجھے خبر دو کہ وہ کون صاحب ہیں؟“ راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ معمول تھا کہ جب بھی وہ کسی شخص کو کسی ضرورت یا کام سے بھیجتے تو (تاکیداً) یہ فرماتے: ”جب تم واپس پلٹو تو مجھے اس معاملے کی پوری خبر دینا جس کے لیے میں نے تمہیں بھیجا ہے، اور یہ بھی بتانا کہ وہاں سے مجھے کیا جواب دیا گیا ہے؟“ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے (واپس آ کر) عرض کی: آپ نے مجھے یہ پتہ لگانے کا حکم دیا تھا کہ وہ کون شخص ہے، تو وہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ ہیں اور ان کے ساتھ ایک لونڈی بھی ہے، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”انہیں کہو کہ وہ ہمارے ساتھ آ ملیں، اگرچہ ان کے ساتھ لونڈی ہی کیوں نہ ہو...“ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
[مسند اسحاق بن راہویہ: 2837]

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2837
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :القصة صحيحة على شرط مسلم. »
«أخرجه صحيح البخاري برقم: 1286، وأخرجه صحيح مسلم برقم: 928، وأخرجه موطأ مالك برقم: 803 / 264، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 3123، وأخرجه سنن النسائي برقم: 1856 / 7، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 1994، وأخرجه جامع الترمذي برقم: 1004، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 1595، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 7275، وأخرجه مسند أحمد برقم: 294، وأخرجه مسند الطيالسي برقم: 1608، وأخرجه مسند الحميدي برقم: 223، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 4499، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 6675، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 12247، وأخرجه شرح معاني الآثار للطحاوي برقم: 6969»