المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الإحسان إِلَى الرقيق باب: غلاموں کے ساتھ حسنِ سلوک اور بھلائی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2832
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ فَرْقَدٍ ، عَنْ مُرَّةَ الطَّيِّبِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ الْمَمْلُوكُ ، إِذَا أَطَاعَ اللهَ تَعَالَى ، وَأَطَاعَ سَيِّدَهُ .ترجمہ
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والا وہ غلام ہو گا جس نے اللہ تعالیٰ کی بندگی و اطاعت بجا لائی ہو اور اپنے (دنیاوی) آقا کی بھی فرمانبرداری و تابعداری کی ہو۔“
اسے امام احمد بن منیع نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں صدقہ بن موسیٰ اور فرقد السبخی ضعیف راوی ہیں، تاہم اللہ اور آقا دونوں کے حقوق ادا کرنے والے غلام کے فضائل اور اسے دوہرا اجر ملنے کی تائید دیگر صحیح احادیث سے ہوتی ہے۔